English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مریم اورنگزیب کی رپورٹرز سے لڑائی، صحافیوں پر دباو کیلیے مالکان سے رابطے

القمر

تحریک انصاف کو آزادی صحافت کا درس دینے والی مسلم لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب پریس کانفرنس
کے دوران رپورٹرز سے لڑ پڑیں۔ لیگی ترجمان نے صحافیوں پر دباو ڈالوانے کیلیے چینلز مینجمنٹ سے رابطے
کرلیے۔

آزادی صحافی کی نام نہاد علمبردار مسلم ن اپوزیشن میں رہتے ہوئے صحافیوں پر دباو ڈالونے لگی۔
لاہور میں ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب اور صحافیوں کے درمیان تلخ کلامی کی ویڈیو سامنے آگئی۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صحافی الزام عائد کر رہے ہیں کہ مریم اورنگزیب پریس کانفرنس کور
کروانے کے لیے مینجمنٹ سے دباو ڈلوا رہی ہیں۔

ماجرہ کچھ یوں ہے کہ یہ جھگڑا لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی ،احسن اقبال اور دیگر کی پریس کانفرنس
سے قبل ہوا۔
لیگی انتظامیہ کی جانب سے پریس کانفرنس کے لیے ہال کے اندر انتظام کیا گیا تھا جبکہ صحافیوں کی
جانب سے پریس کانفرنس کور کرنے کے لیے انتظامات باہر گراؤنڈ میں کیے گئے جس پر مریم اورنگزیب
اور صحافیوں میں تلخ کلامی ہوئی۔

اس حوالے سے ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جس میں مریم اورنگزیب کو صحافیوں سے جھگڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔
مریم اورنگزیب صحافیوں سے مخاطب ہوکر کہتی ہیں کہ “آپ پریس کانفرنس کور کریں نہ کریں ،آپ اپنا
لہجہ ٹھیک کریں آپ مجھ پر الزام نہ لگائیں میں نے آپ کو ہمیشہ اپنا بھائی سمجھا۔

صحافی کے الزام پر مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ میں نے مینجمنٹ کو فون نہیں کیا،میں ہاتھ جوڑ کر آپ
کی منتیں کررہی ہوں’۔ صحافیوں کے جھگڑے کے بعد مریم اورنگزیب اندر چلی جاتی ہیں ۔

خیال رہے کہ یہ اسی پارٹی کی ترجمان ہیں جو آزادی صحافت کے لیے تحریک انصاف حکومت پر تنقید
کرتی رہتی ہے۔ اس سے قبل ماضی میں اپنے دور حکومت میں ن لیگ صحافیوں پر خاموشی سے پابندیوں
سمیت آزادی صحافت کو دبانے کے لیے کئی حربے استعمال کرتی رہی ہے۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ن لیگ بیوروچیف یا ڈائریکٹر نیوز سے بات چیت کر کے دباو ڈالوایا
کرتی تھی مگر اس بار ن لیگ میں بھی جدت آگئی ہے اور اس نے براہ راست مالکان اور چینل مینجمنٹ
کو مینج کرنا شروع کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے