چین کے اقوام متحدہ کے لئے مستقل نمائندے ژانگ ژُن نے کہا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ امریکہ کے صدر جو بائڈن چین سے متعلقہ بیان کو عملی شکل بھی دیں گے۔
ژانگ نے سوموار کے دن اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے اختتام کے بعد آن لائن پریس کانفرنس کی۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ کو "چین کے خلاف جارحانہ روّیے ” اور "تحریکی حملوں” سے پرہیز کرنا چاہیے۔ صدر بائڈن نے کہا ہے کہ ہم چین کے خلاف کسی نئی سرد جنگ کے آغاز کی نیت نہیں رکھتے امید ہے کہ وہ اس بیان پر عمل بھی کریں گے۔
ژانگ نے کہا ہے کہ ہماری دِلی تمنا ہے کہ امریکہ سرد جنگ کی سوچ کو ترک کر کے عملی اقدامات کرے۔ مجھے یقین ہے کہ دونوں فریقین کے ایک دوسرے کی طرف قدم بڑھانے کی صورت میں صحتمندانہ اور مستحکم دو طرفہ تعلقات قائم ہو سکتے ہیں۔ بصورت دیگر اندیشوں کا ماحول برقرار رے گا۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس نے چین اور امریکہ کو "سرد جنگ” کی وارننگ دی اور مکمل طور پر خراب تعلقات کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔
