چین کا قرضہ ان ممالک کے جی ڈی پی کے 10 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے
بیلٹ اینڈ روڈ کا ٹریپ پلان
چین کے بی آر آئی(بیلٹ ایند روڈ انیشییٹو) پروگرام کی وجہ سے دنیا کے 42 ممالک قرضوں کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ ان ممالک پر چین کا قرض ان کی جی ڈی پی کے 10 فیصد سے زیادہ ،385 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق چین نے اپنے بی آر آئی بین الاقوامی ترقیاتی مالیاتی منصوبوں پر بہت زیادہ رقم خرچ کی ہے۔ اس نے اس پر سالانہ 85 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ لیکن اس کی یہ سخاوت دنیا کے 42 ممالک کے لیے زندگی کا جال بن گئی ہے۔ چین کا 385 بلین ڈالر کا قرض ان ممالک پر چڑھ گیا ہے۔
مطالعے کے مطابق ، بی آر آئی ( اینڈ روڈ انیشی ایٹو)کے 35 فیصد انفراسٹرکچر پراجیکٹس کو مسائل کا سامنا ہے۔ اس مطالعے کو ‘دی بیلٹ اینڈ روڈ پر بینکنگ: 13427چینی ترقیاتی منصوبوں کے نئے عالمی ڈیٹاسیٹ کا جائزہ ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ایڈ ڈیٹا کا یہ مطالعہ بدھ کو جاری کیا گیا۔ اس کے مطابق ، بی آر آئی کے 35 فیصد منصوبے بدعنوانی ، مزدور تشدد ، ماحولیاتی عدم تحفظ اور عوامی احتجاج جیسے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بی آر آئی منصوبوں سے مقامی عدم اطمینان بڑھ رہا ہے اور حکومتوں کو چین کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ چین مدد کے بجائے دوسرے ممالک کو قرض دینے کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کا بی آر آئی سے قرض میں اضافہ کا تناسب 31: 1 ہے جو کہ کسی بھی معیار کے مطابق بہت زیادہ ہے۔
اس کی وجہ سے ان ممالک میں چین کے خلاف عدم اطمینان بڑھ رہا ہے اور اپوزیشن جماعتیں حملہ آور ہو گئی ہیں۔ حکومتوں کے لیے اس صورتحال کو سنبھالنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس مطالعے میں چین کے بی آر آئی پروگرام کا باریک بینی سے مطالعہ کیا گیا ہے۔ یہ مطالعہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کواڈ ممالک نے انڈو پیسفک ممالک میں انفراسٹرکچر پارٹنر شپ انیشیٹو شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
آکسفورڈ اکنامکس کی ایک تحقیق کے مطابق ، اب سے 2040 تک ، دنیا بھر میں انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے 94 ٹریلین ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ اس سے واضح ہے کہ دنیا کو چین کے پیسے کی ضرورت کیوں ہے۔ اسی وجہ سے قرضوں کے جال میں ڈوبنے کے باوجود دنیا کے ممالک بی آر آئی کی کوتاہیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ایڈ ڈیٹا کی ایک تحقیق کے مطابق بی آر آئی کے باہر چین میں پروجیکٹ کامیاب ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔
دی بیلٹ اینڈ روڈ)بی آر آئیکے تحت چین پوری دنیا میں اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چین اس منصوبے میں کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں اپنا تسلط قائم کرنے کے ساتھ ساتھ چین اپنی سست رومعیشت کو اپنی مدد سے بحال کرنا چاہتا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر مشرقی یورپ اور افریقہ تک کل 71 ممالک بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہیں۔
