وزیراعظم نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے ہم قیام ِ امن کی خاطر بات چیت پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہمیں نتیجے کا تو علم نہیں تاہم افغان سر زمین پر مذاکرات ہو رہے ہے، طالبان ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہوجائیں تو انہیں معافی مل سکتی ہے، بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت ہو رہی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مقام پر قیام ِ امن کارواستہ بات چیت سے نکلتا ہے۔ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق ہمسایہ ممالک سے بات چیت جاری ہے، اب سوال یہ ہے کہ امریکہ طالبان کو کب تسلیم کرے گا ؟ افراتفری اور انتشارسے سب سے زیادہ نقصان افغان عوام کو ہی پہنچے گا۔
دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستانیوں کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہم نے بھاری قیمت ادا کی، ہماری تعریف کے بجائے ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی تاریخ کا قریبی تعلق ہے، افغان سرحد کے دونوں اطراف پشتون قبائل قیام پذیر ہیں، افغانستان نے کبھی بیرونی طاقتوں کو قبول نہیں کیا۔
حزب ِ اختلاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمران خان نے بتایا کہ ان پر بد عنوانیوں کے سنگین الزامات ہیں، وہ محض بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ فیملی لیمٹڈ کمپنیاں ہیں، یہ 2 خاندان ہیں جنہوں نے ملک کو لوٹا، اس وقت وہ ابتری کا شکار ہیں، اپوزیشن کو اس بات کا احساس نہیں پاکستان نے کورونا وبا کا بہتر انداز سے مقابلہ کیا، ہم ان 4 ممالک میں سے تھے جنہوں نے نا صرف اپنے لوگوں کو کورونا وبا سے بچایا بلکہ معاشی بدحالی سے بھی محفوظ رکھا۔
مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے ہر فورم پر اجاگر کر رہے ہیں، انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی برادری یکساں رویہ اختیار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے چین کے ساتھ بہت مستحکم تعلقات ہیں، پاک چین تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہوئے۔
