پنڈورا پیپرز نے پاکستان کی سیاست میں بھونچال مچا دیا ہے۔ صاف شفاف سیاست کرنے کی دعوی دار تحریک
انصاف حکومت کے کئی وزرا کے نام افشور کمپنیوں کے ناموں نے پاکستانی عوام کو پریشان کر دیا ہے۔
پنٹورا لیکس میں وزرا، اپوزیشن، بیوروکریٹ، تاجر اور فوجی افسران کے بے شمار نام شامل ہیں۔ رپورٹ کے
مطابق لندن میں برطانیہ سے باہر کے لوگوں کی جانب سے جائیدادیں خریدنے والوں میں پاکستانیوں
کانمبر پانچوان ہے۔
ذرائع کے مطابق پنڈورا پیپرز نے وزیراعظم ہاؤس کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کے
لاہور میں زمان پارک والے مکان کا ایڈریس بھی سامنے آیا ہے گو کہ فی الحال اس ایڈریس کو کسی اور
منسوب کر دیا گیا ہے لیکن وافقان کار کہتے ہیں معاملہ ایسے نمٹنے والا نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری طور پر بہت ساری آج ہونے والی میٹنگز منسوخ کر دی گئی ہیں۔ حکومت کی اعلی شخصیات اور بیوروکریسی کی چیدہ چیدہ شخصیات آج سر جوڑ کر بیٹھ رہی ہیں۔ ویسے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنڈورا پیپرز منظر عام پر آنے سے پہلے سے مشاورت کا عمل شروع کر دیا گیا تھا۔
ملکی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ پناما لیکس کی طرح پنڈورا لیکس کا معاملہ بہت سوں کے سر لے کر جائے گا۔ اگلے چند ہفتے پاکستان کی سیاست کا رخ بدل سکتے ہیں۔ ملکی مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام دیکھائی دینے والی عمران خان کی حکومت بھی اس پنڈورا سونامی سے شائد ہی خود کو محفوظ رکھ سکھے گی۔
عوام بھی کہتے ہیں کہ پنڈورا پیپرز میں جن کے نام آئے ہیں سب ہی نے قائداعظم کے فرمودات کا خون کیا ہے ایسے افراد کو
کیسے معاف کیا جاسکے گا؟
وافقان کار کہتے ہیں ملک سے کرپشن کا صفایا کرنے اور ملکی دولت لوٹنے والوں کا کڑا احتساب کا نعرہ محض نعرہ ہی رہا۔ عمران خان کی حکومت نے تین سالوں میں نعروں کے سوا کچھ نہیں کیا۔ ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں اس دور میں کرپشن کے ریکارڈز ٹوٹ چکے ہیں۔
اب پنڈورا لیکس میں حکومتی وزرا اور عمران خان کے قریبی دوستوں کے نام سامنے آنے کے بعد حکومت کا بچنا انتہائی مشکل دیکھائی دے رہا ہے۔ اب شائد حکومت کی بساط لپیٹ کر قومی حکومت کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔
