English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سکوڈ گیم، منی ہائیسٹ اور کوئین گیمبٹ: ناکامی کے بعد شہرت کی بلندیاں حاصل کرنے کی کہانیاں

القمر

نیٹ فلیکس کے مشہور سیزنز سکوڈ گیم، منی ہائیسٹ اور کوئین گیمبٹ کا شمار دنیا کے بہترین سیزنز میں ہوتا ہے جن کے کروڑوں لوگ دیوانے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کے لکھاریوں، پرڈیوسرز اور فنکاروں کو شروع میں شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

نیٹ فلکس کا مشہور سیزن ‘ سکوڈ گیم’ کے لکھاری ہوانگ ڈونگ ہیوک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسے 2009ء میں اسے تحریر کیا تھا، وہ اپنا مسودہ لے کر 10 سال تک سٹوڈیوز میں مارے مارے پھرتے رہے لیکن کسی نے ان پر توجہ نہ دی۔

ان کے مالی حالات اس نہج تک پہنچے کہ انہوں نے دل برداشتہ ہو کر لکھنا چھوڑ دیا، حتیٰ کہ ایسا وقت بھی آیا کہ انہوں نے گزر اوقات کیلئے اپنا لیپ ٹاپ تک بیچ دیا۔

اسی قسم کی کہانی نیٹ فلیکس کے ایک اور مشہور سیزن ” منی ہائیسٹ” کی ہے۔ اس سیزن کو جب سپین میں شروع کیا گیا تو اسے بری طرح ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس شو کے سکرین رائٹر سپین کے ٹی وی چینل  ایتھینا تھری میں اس شو کے ابتدائی قسطیں نشر کی گئیں لیکن ناظرین کیی توجہ ہی نہ حاصل کر سکیں۔ اس ناکامی کو دیکھتے ہوئے چینل نے اسے بند ہی کر دیا۔

حالات یہاں تک پہنچے کہ اس شو کے اداکاروں اور دیگر ممبران نے دوسری جگہوں پر نوکریاں تلاش کرنا شروع کر دیں۔ وقت نے پلٹا اس وقت کھایا جب شو ختم ہونے کے 3 ماہ بعد نیٹ فلکس نے اسے صرف دو ڈالر کے عوض خریدا اور بغیر کسی تشہیر کے ریلیز کر دیا، اس کے بعد صرف دو ہفتوں کے اندر اندر پوری دنیا میں اس سیزن نے اتنی مقبولیت حاصل کی کہ دنیا حیران ہے، اس سے لے کر آج تک اس کے پانچ سیزن نشر ہو چکے ہیں۔

اس قسم کی کہانی ایک اور شو کوئین گیمبٹ کی ہے جسے اب تک 62 ملین سے زیادہ لوگ دیکھ چکے ہیں۔ اس کے پرڈیوسر ایلن سکاٹ کا ایک انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ کیسے انہوں نے 30 سال تک مسلسل ناکامیوں کا سامنا کیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے