English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

75 سال گزرنے کے بعد بھی پسماندہ ذاتوں کومیرٹ پر اعلی ذاتوں کے برابر نہیں لایا جا سکا: بھارتی حکومت کا سپریم کورٹ میں اعتراف

القمر

نئی دہلی(ساوتھ ایشین وائر)بھارتی مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ 75 سال گزرنے کے بعد بھی شیڈولڈ کاسٹس اور پسماندہ ذات کے باشندوں کو میرٹ کے لحاظ سے اعلیٰ ذاتوں کے برابر نہیں لایا جاسکا ۔ اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے جسٹس ایل ناگیشور را کی سربراہی میں بنچ کو بتایا گیاکہ پسماندہ ذات کے لوگوں کے لیے گروپAازمرے کی ملازمتوں میں اعلی عہدوں تک پہنچنا اور بھی مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سپریم کورٹ ایس سی ، ایس ٹی اور او بی سی کی اسامیوں کو پر کرنے کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد دے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سپریم کورٹ نے ایس سی ، ایس ٹی زمروں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ترقیوں میں ریزرویشن کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پسماندہ ذاتیں گروپ Aکی ملازمتوں میں کم نمائندگی رکھتی ہیں۔ بنچ نے کہا کہ یہ مناسب نہیں ہے۔ اس صورتحال کو درست کیے بغیر ان ذاتوں کو گروپ B اور C میں مناسب نمائندگی نہیں دی جا سکتی۔سماعت کے دوران وینوگوپال نے کہا ، "گروپ اے اور گروپ بی میں ان کی نمائندگی کم ہے ، جبکہ گروپ سی اور ڈی میں زیادہ نمائندگی ہے۔” انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ آزادی کے 75 سال بعد بھی ہم ایس سی اور ایس ٹی ذاتوں کو اعلی ذاتوں کے میرٹ کی سطح پر نہیں لا سکے۔وینوگوپال نے کہا کہ پرسنل اینڈ ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مرکزی حکومت میں 5000 کیڈر اور 53 ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں حلف نامہ داخل کریں گے۔ ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل بلبیر سنگھ نے بنچ کو بتایا کہ 1965 اور 2017 کے درمیان دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پسماندہ ذاتوں کیA اور B کیٹیگری میں نمائندگی کم ہے جبکہ C اور D میں ان کی نمائندگی زیادہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے