English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پینٹاگان کا تائیوان میں خفیہ تربیتی مشن چلانے کی خبروں کی تصدیق سے انکار

امریکہ کے محکمۂ دفاع کے عہدے دار ان اطلاعات کی تصدیق سے انکار کر رہے ہیں کہ امریکی فورسز تائیوان میں موجود ہیں اور تائیوانی افواج کو خفیہ تربیت فراہم کر رہی ہیں تاکہ انہیں چین کی طرف سے کسی بھی حملے کی صورت میں مقابلے کے لیے تیار کیا جا سکے۔

اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے جمعرات کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ پینٹاگان کے تقریباً دو درجن اسپیشل آپریشن ٹروپس تائیوان کی مسلح افواج کے سیلیکٹ یونٹ کے ساتھ کام کر رہے ہیں جب کہ یو ایس میرینز بھی تائیوان کی فورسز کو میری ٹائم تکنیک سکھاتے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی عہدے داروں نے ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کو اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکی افواج کم از کم پچھلے ایک سال سے تربیتی آپریشنز میں مصروف ہیں۔

پینٹاگان کے عہدے داروں نے جمعرات کو اس طرح کی خبروں کی تصدیق سے انکار کیا ہے۔ اگرچہ پینٹاگان ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور تائیوان کے تعلقات چین سے آنے والے خطرات کے پیشِ نظر باہم استوار ہیں۔

محکمۂ دفاع کے ترجمان جان اسپل نے وائس آف امریکہ کو ایک بیان میں بتایا کہ چین نے تائیوان اور دیگر اتحادیوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

ان کے بقول، "چین نے تائیوان کے علاقوں, ایسٹ چائنہ سی اور ساوتھ چائنہ سی میں فوجی مشقیں بھی کی ہیں۔ جس پر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ عدم استحکام پیدا کر رہا ہے اور اس سے غلط نتائج اخذ کرنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔”

چین کے متعدد جنگی طیاروں نے حالیہ دنوں میں تائیوان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے (فائل)

چین کے متعدد جنگی طیاروں نے حالیہ دنوں میں تائیوان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے (فائل)

وائس آف امریکہ کے لیے جیف سیلڈن کی رپورٹ کے مطابق محکمۂ دفاع نے اپنے بیان میں وائس آف امریکہ کو مزید بتایا ہے کہ امریکہ تائیوان کے سمندری راستے سمیت اس علاقے میں امن اور استحکام کا عزم رکھتا ہے اور واشنگٹن بیجنگ پر زور دیتا ہے کہ وہ اُن معاہدوں کی پاسداری کرے جو تین اعلامیوں کے اندر واضح طور پر درج ہیں۔

امریکہ میں موجود تائیوان کے مرکزی نمائندے سے وائس آف امریکہ نے جب ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کی رپورٹ پر ردِ عمل کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس پر تبصرہ نہیں کریں گے۔

امریکہ کے متعدد اراکینِ کانگریس نے بھی جمعرات کو کہا ہے کہ وہ اس بارے میں تصدیق نہیں کر سکتے کہ آیا امریکی اسپیشل فورسز تائیوان کے اندر تربیت فراہم کرنے میں مصروف ہیں یا نہیں۔ تاہم انہوں نے خبر میں بیان کیے گئے مشن کی حمایت کی۔

امریکہ کے عہدے داروں نے بھی حالیہ دنوں میں چین کے تائیوان کی جانب رویے کو جارح اور تند گردانتے ہوئے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔


شی جن پنگ کے ساتھ جو بائیڈن کی 2013 میں بیجنگ میں ایک تصویر جب بائیڈن امریکہ کے نائب صدر تھے ( اے پی : فائل)

شی جن پنگ کے ساتھ جو بائیڈن کی 2013 میں بیجنگ میں ایک تصویر جب بائیڈن امریکہ کے نائب صدر تھے ( اے پی : فائل)

چین نے گزشتہ چند روز کے دوران تائیوان کی فضائی حدود میں 150 سے زائد لڑاکا طیارے بھیجے تھے جس پر امریکہ نے تائیوان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

چین کا ردِ عمل

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے نے امریکہ کی خصوصی فورسز کی تائیوان میں موجودگی اور تائیوان کے اندر ایک خفیہ مشن کی خبروں پر برہمی ظاہر کی ہے۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی کے انگریزی زبان میں شائع ہونے والے نیوز آوٹ لیٹ ‘گلوبل ٹائمز’ کے ایڈیٹر ان چیف ہو شی جن نے جمعرات کو ایک ٹوئٹ میں کہا کہ "صرف دو درجن ممبرز کیوں؟ خفیہ کیوں؟”

ہو شی جن کا کہنا تھا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اپنے 240 سروس مین کو کھلے عام فوجی وردی میں بھیجے اور دنیا کو بتائے کہ وہ یہاں تعینات ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب دیکھتے ہیں کہ آیا پیپلز لیبریشن آرمی ان امریکی حملہ آوروں کو یہاں سے ہٹانے کے لیے ان پر فضائی حملہ کرتی ہے یا نہیں۔

اس خبر کے لیے محکمۂ خارجہ کے لیے وائس آف امریکہ کی نمائندہ نکی چنگ نے بھی مواد فراہم کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے