راجستھان (ساوتھ ایشین وائر)راجستھان کے ہنومان گڑھ ضلع کے پریم پورہ گاوں میں ایک دلت نوجوان کو مبینہ طور پر لوگوں کے ایک گروہ نے مارا پیٹا اور اس کی لاش گھر کے باہر پھینک دی۔ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر حملے کی ویڈیو ریکارڈ کی اور اسے سوشل میڈیا پر گردش کی۔ نوجوان کے لواحقین اور مقامی دلت برادری نے دو دن تک احتجاج کیا جس کے بعد پولیس نے 11 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا اور تین کو گرفتار کیا۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق آٹھ دیگر مفرور بتائے گئے۔ لواحقین پولیس کی کارروائی کے بعد لاش کی تدفین کے لیے رضامند ہو ئے۔
حملہ آوروں نے جمعرات کے روز نوجوان جگدیش کو زبردستی ایک کھیت میں لے جایا کرلاٹھیوں سے اسے بے رحمی سے مارا۔ ایک ملزم نے اپنا گھٹنے جگدیش کی گردن پر رکھا اور دوسرے اسے مارتے رہے یہاں تک کہ وہ ہوش کھو بیٹھا۔ خاندان کے افراد کو سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو سے جرم کا علم ہوا۔
اپوزیشن بی جے پی نے تمام ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دعوی کیا ہے کہ کانگریس کے دور حکومت میں دلتوں کے خلاف جرائم میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر ستیش پونیا نے کہا کہ کانگریس کی قومی قیادت ، جو دیگر ریاستوں میں سیاسی سیاحت میں مصروف ہے ، کو راجستھان پر توجہ دینی چاہیے
