تجزیہ کار رئوف کلاسرا نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید افغانستان کیلئے نہیں بلکہ اپنی سیاست کیلئے چاہیے۔
یہ بات انہوں نے نجی ٹیلی وژن کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ فوج کی جانب سے جنرل فیض حمید کو بطور آئی ایس آئی چیف برقرار نہ رکھنے پر وزیراعظم عمران خان ناراض ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پنڈی والے بھائیوں کو بھی دیکھنا چاہیے کہ آپ نے ایک ”بچے” کو تین سالوں میں عادی کردیا، اس نے جو منہ سے بات نکالی آپ نے پوری کر دی لیکن آخر میں کہہ دیا کہ اب یہ تو نہیں ہوگا، اس پر بچہ تو اپنا ردعمل دے گا۔
پچھلے تین سالوں میں عمران خان کو کس طرح سب کو میننج کرکہ دیا گیا۔
سنئیے رؤف کلاسرا کی زبانی
ویڈیو بشکریہ: ہم نیوز pic.twitter.com/qpeSQGwLr7
— NayaDaur Urdu (@nayadaurpk_urdu) October 15, 2021
رئوف کلاسرا نے کہا کہ خان صاحب کیلئے ہر چیز کا انتظام کرکے دیا گیا، ان کو پہلے دن سے ہی چھوٹا سا کانٹا تک چھبنے نہیں دیا۔ انھیں میڈیا، میڈیا مالکان، اینکرز، سیاستدان، نیب، پارلیمنٹ اور سینیٹ تک کے انتظامات کرکے دیے گئے۔ اب آخر میں انہوں نے جنرل فیض کو چھ ماہ تک بطور آئی ایس آئی چیف برقرار رکھنے کا کہا تو آپ نے منع کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جنرل فیض کو رکھنے کی وجہ افغانستان بتائی گئی لیکن میری اطلاعات کے مطابق باجوہ صاحب نے عمران خان سے کہا تھا کہ کہ آئی ایس آئی ایک ادارے کے طور پر کام کرتا ہے، جنرل فیض کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ نئے آئی ایس آئی چیف کو ادارے کی سپورٹ ہوگی، وہ چیزوں کو سنبھال لیں گے۔
