کوئٹہ: گورنر بلوچستان نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بدھ 20 اکتوبر سہ پہرچار بجے طلب کرلیا جب کہ اجلاس میں وزیر اعلی جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی۔
بی اے پی کے سرکردہ رہنماؤں کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پارلیمانی اراکین کی مشاورت سے نیا پارلیمانی لیڈر اور اتحادیوں کیساتھ مل کر نئے قائد ایوان کو منتخب کرنے پر اتفاق کیا، پارٹی عہدیداروں کی طرف سے ظہور احمد بلیدی کو پارٹی کا قائم مقام صدر مقرر کرنے کے فیصلے کی توثیق کی گئی۔
دریں اثنا وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے پارٹی جنرل سیکرٹری سینیٹرمنظور احمد کاکڑ کے نام خط میں لکھا ہے کہ 11 اکتوبر کو نامزدگی برائے قائم مقام صدر بلوچستان عوامی پارٹی آپ نے جو خط قائم مقام صدر اور پارٹی ترجمان کے حوالے سے جاری کیا آئین کی روح سے غیر آئینی اقدام ہے لہذا آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے جاری کردہ خط کو منسوخ کیا جائے اور کوریجنڈم جاری کیا جائے۔
ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ ناراض اراکین پی ڈی ایم کا حصہ نہیں بلکہ پی ڈی ایم کی سازش کا حصہ بنے ہیں، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی سمیت بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت وزیراعلی جام کمال کو حاصل ہے۔

