English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اے پی ایس شہدا کے لواحقین نے سابق اعلیٰ و عسکری قیادت کو سانحے کا ذمہ دار قرار دیکر مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر دیا

القمر

سپریم کورٹ میں سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور ازخودنوٹس کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران اے پی ایس شہدا کے لواحقین نے اس وقت کے اعلی سول و عسکری قیادت کو سانحہ کا ذمہ دار قرار دےدیا۔

شہدا کی ماؤں نے عدالت سےاستدعا کی کہ جنرل راحیل شریف پر مقدمہ درج کیا جائے۔ علاوہ ازیں لواحقین نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام، سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیراعلی پرویز خٹک پر بھی مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ لواحقین کی جانب سے دئیے گئے ناموں میں سابق کور کمانڈر پشاور ہدایت الرحمان اور سابق سیکرٹری داخلہ اختر شاہ کےنام بھی شامل ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران کو تو سزائے موت ہوچکی، کچھ موقع پر مارے گئے، اس پر ایک شہید کی والدہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو مارے گئے وہ دہشتگرد تھے منصوبہ ساز اب بھی زندہ ہیں، منصوبہ سازوں کو سزا ملے تاکہ اپنی کرسیاں بچانے کیلئے کوئی بچے شہید نہ کرے۔

شہید کی والدہ نے کہا ہمیں حکومت سے کچھ نہیں چاہیے، صرف بچوں کے خون کا بدلہ چاہیے، جوڈیشل کمیشن نے بھی سکیورٹی ناکامی کو سانحہ کی وجہ قرار دیا۔

جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ سکیورٹی ناکامی کی وجہ سے پورا ملک متاثر ہو رہا ہے، اب تک ہزاروں جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ریاست سمجھتی ہے کوئی ذمہ دار رہ گیا ہے تو اس کیخلاف کارروائی کرے۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو والدین کے مطالبے پر ضروری اقدامات کا حکم دے دیا۔ جس کے مطابق اٹارنی جنرل دو ہفتے بعد ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر عدالت کو اقدامات سے آگاہ کریں گے۔

اس کے بعد کیس کی سماعت کو مزید دو ہفتے کیلئے ملتوی کر دیا۔

سماعت کے بعد آرمی پبلک سکول کے شہداء کے والدین نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کو ان بڑوں کے نام دئیے ہیں جو اے پی ایس سانحہ پشاور کے اصل ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے لوگوں کو سزا ملتی ہے لیکن بڑی کرسیوں میں موجود افراد بچ جاتے ہیں۔

اے پی ایس کے لواحقین نے کہا کہ آج عدالت میں ہم نے کچھ بڑوں کے نام دئیے ہیں، عدالت نے ان کے خلاف ایف آئی آر کاٹنے کا کہا گیا ہے، ہم نے عدالت میں سابق آرمی چیف، سابق وزیر داخلہ ،سابق کور کمانڈر پشاور اور سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ کے نام بھی بتائے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ دہشتگرد افغانستان کے راستے کیسے پہنچے اس کا ذمہ دار کون ہے، اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے تھیریٹ الرٹ جاری کیا تھا تو انہوں نے کیا کیا، ابھی تک سانحہ پشاور کے کسی قاتل یا ذمہ دار کو سامنے نہیں لایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے نام آج عدالت میں دئیے ہیں ان سے پہلے کھبی انکوائری نہیں کی گئی، سانحہ پشاور کے جن افسران کو سزائیں ملی وہ کسی قاتل کی سزائیں نہیں ہیں۔ ہمارے بچے لاوارث نہیں ہیں، ہمیں کہیں اور سے انصاف نہیں ملا اس لیےسپریم کورٹ کے دروازے پر آئے ہیں، سپریم کورٹ ہمارے لئے انصاف کا آخری دروازہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے