صحافیوں کی عالمی تنظیم نے عاصمہ شیرازی کے حوالے سے تبصرہ کرنے پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری پر تنقید کرتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی جانب سے ٹویٹر پر جاری مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی وزیر برائے انسانی حقوق نے اپنی ٹویٹ میں صحافی عاصمہ شیرازی کو اس لئے حملے کا نشانہ بنایا کیونکہ انہوں نے ملک کو درپیش معاشی مشکلات کا اپنے کالم میں ذکر کیا تھا۔
آئی ایف جے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تنظیم عاصمہ شیرازی کو ہراساں اور ٹارگٹ کرنے پر شیریں مزاری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ان سے معافی مانگیں۔
#Pakistan🇵🇰: Pakistan’s minister for Human Rights attacked journalist @asmashirazi on Twitter after she had issued a column on the country’s economic difficulties. We urge her to apologise for harassing and targeting a journalist for simply doing her job https://t.co/MovZJNRNwb
— IFJ (@IFJGlobal) October 20, 2021
دوسری جانب شیریں مزاری کی جانب سے عاصمہ شیرازی سے معافی کے مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ردعمل دینے کا مکمل اختیار رکھتی ہیں۔ معافی مجھے نہیں بلکہ عاصمہ شیرازی کو مانگنی چاہیے کیونکہ ان کی جانب سے بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ بی بی سی میں لکھے گئے ایک کالم میں عاصمہ شیرازی نے حکومتی معاشی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اب کالے بکرے سرِ دار چڑھیں یا کبوتروں کا خون بہایا جائے، پُتلیاں لٹکائی جائیں یا سوئیاں چبھوئی جائیں، معیشت یوں سنبھلنے والی نہیں جبکہ معیشت کے تقاضے تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اب تبدیلی کے اس چرخے میں کون کون آئے گا؟ سیاسی چال ستاروں کے حال سے زیادہ اہم ہے۔
