
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مہنگائی کے سونامی کے باعث بدتر حالات ہوگئے ہیں، کم از کم اجرت 25ہزار روپے نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔انہوں نے یہ بات بدھ کو وزیر اعلیٰ ہائوس میں سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد پر یس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اشیائے خورونوش کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں اور پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ کردیا گیاجس کی وجہ سے عوام سخت پریشان ہیں، بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث غریب ، غریب تر ہوتا جارہا ہے اور متوسط طبقہ بھی اپنے اخراجات پورے نہیں کر پارہا ہے،مہنگائی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کم ازکم اجرت 25ہزار روپے سے بڑھانا ہوگی۔ سندھ کابینہ نے فیصلہ کیاہے کہ 25ہزار روپے کم ازکم اجرت کے قانون پر سختی سے عمل کیاجائے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کم از کم اجرت 25 ہزار روپے ہر نجی وسرکاری ادارے میں یقینی بنائیں گے،اس حوالے سے محکمہ لیبر میں شکایات سیل قائم کیا جارہا ہے جو ادارہ کم ازکم اجرت 25ہزارروپے نہیں دے گا اس کیخلاف کارروائی ہوگی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب مہنگائی کی وجہ سے لوگوں میں رونے کی سکت میں بھی نہیں رہی ہے جب کہ وفاقی حکومت کو اپنی مرضی کے قوانین لانے سے فرصت نہیں ،حقیقت پر بات کرنے کے بجائے پروپیگنڈا شروع کردیتے ہیں۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہمیڈیا کیخلاف طاقت کے استعمال پر ہم میڈیا کے ساتھ ہیں،سندھ میں اساتذہ کی بھرتی کے لیے آئی بی اے کے ذریعے ٹیسٹ لیے گئے تھے،نتائج میں سیکڑوں طلبہ پاس نہیں ہوسکے، اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کا سامنا ہے، صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیاہے کہ خواتین کے لیے اہلیت کا معیار 50فیصد مارکس کیاجائے، خصوصی صلاحیتوں کے حامل طلبہ کے33فیصد مارکس مقرر کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ وفاقی حکومت نے کچھ دنوں پہلے ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کاربن کریڈٹ کو قومی اثاثہ قرار دیاجائے، فاریسٹ اور ماحولیات صوبائی معاملات ہیں، ہمارے مینگروز پلانٹیشن کی دنیا نے تعریف کی ہے، وفاقی حکومت خود کچھ کرتی نہیں اور صوبے کے اچھے کام پرقبضہ کرلیتی ہے، آئینی طور پر کاربن ایشو صوبائی معاملہ اور اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی منطق کا مقابلہ نہیں کرسکتا،ان کے دور میں مکمل بدانتظامی ہے، گزشتہ سال بھی کہاکہ گندم کی اسمگلنگ روکیں، اس سال بھی یہی حال ہے، ہمیں 2 ماہ قبل کہاگیاکہ گندم ریلیز کریں۔ہاں! یہاں آٹا 70روپے کا مل رہاہے،جہاں 55کا آٹا مل رہاہے وہ جانوروں کو نہیں کھلا سکتے۔مراد علی شاہ کے بقول ہر ملک اپنے شہریوں کا خیال رکھتاہے،ہمیشہ کہتا ہوں کہ اگر دوسرے ملکوں میں مہنگائی ہے تو تم وہاں چلے جائو، ہماری جان چھوڑو،اس وفاقی حکومت کا کام ہر چیز دوسرے پر ڈالنا ہے، ان کا ہر کام جھوٹ پر مبنی ہے،انہیں اپنے اندر خامیاں نظر نہیں آتیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت سے کئی بار کہہ چکا ہوں کہ افسران کی کمی پورے کریں، وفاق نے 16افسران دیے ہیں صرف 4 کام کررہے ہیں۔ ان کا کام صرف سندھ حکومت کو مفلوج کرنا ہے، اداروں سے ٹکرانے کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، اسپیکر سندھ اسمبلی کے ساتھ نازیبا رویہ رکھا جا رہا ہے، اسپیکر کا یہ حق ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ جائیں اور ریلیف لیں،اسپیکر کہیں بھاگے نہیں جا رہے، چھاپا مارنے کا سارا ڈراما کیا گیا۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا جس میں صوبائی وزرا، مشیروں، معاونین خصوصی، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس کے ابتدا میں چیئرمین پی اینڈ ڈی حسن نقوی نے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز، اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز اور پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال 603 دیگر جاری اسکیمیں مکمل ہوں گی جبکہ اس سال 138.384 ملین روپے کی 1647 اسکیمیں جاری ہیں جن کے لیے 60.894 ارب روپے جاری ہوچکے ہیں جس میں سے 28.547 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ رواں سال 84.116 ارب روپے کی لاگت سے 1669 نئی اسکیمیں شروع کی جارہی ہیں جن میں سے513 جاری اسکیموں کے لیے11.774 ارب روپے اکتوبر 2021ء تک جاری ہوچکے ہیں اور مزید 3.411 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تمام متعلقہ وزرا کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ترقیاتی منصوبوں کوجلد سے جلد مکمل کرائیں۔
