English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سید منور حسن مدبر، جرأت مند سیاستدان تھے ، اسد اللہ بھٹو

القمر

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سید منور حسن مدبر، جرأت مند اور درویش صفت سیاستدان تھے، وہ اصول پسند اور ہمہ جہت خوبیوں کے مالک تھے، سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے ہمیشہ مخالف رہے اور وقت کے فرعونوں کو للکارتے رہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے جمعیت الفلاح اسلامی تہذیبی مرکز کراچی میں سید منور حسن کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کی صدارت سابق رکن قومی اسمبلی و نائب امیر جماعت اسلامی اسد اللہ بھٹو ایڈووکیٹ نے کی۔ مقررین میںسابق مدیر ہفت روزہ تکبیر و تجزیہ نگار ثروت جمال
اصمعی، سینئر صحافی اور سید منورحسن کے قریبی دوست سعید عثمانی، صدر جمعیت الفلاح قیصر خان، داماد منور حسن سعد علی خان، معروف اینکر شکیل خان، ادبی و سماجی شخصیت اور دیگر شامل تھے۔ اسد اللہ بھٹو ایڈووکیٹ نے کہا کہ منور حسن ؒ کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے، وہ دور طالب علمی سے سیاسی میدان میں سرگرم رہے، وہ ایک آئیڈیل رہنما تھے، ان کی زندگی کا جائزہ لیں تو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں، امانت و دیانت کا وہ معیار قائم کیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے، بیٹی کی شادی پر ملنے والے تحائف یہ کہہ کر جماعت اسلامی کے بیت المال میںجمع کرادیے کہ یہ امیر جماعت اسلامی کی حیثیت میں دیے گئے ہیں اس پر جماعت کا حق ہے۔ ثروت جمال اصمعی نے کہا کہ منور حسن نے ہماری تربیت ایک بڑے بھائی کی طرح کی ہے، وہ اپنے جونیئر ز کی صلاحیتوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے تھے، وہ اصول پسند سیاست دان تھے، اختلاف کو برداشت کرتے اور تعلقات کو ہمیشہ قائم رکھتے تھے۔ سعید عثمانی نے کہا کہ سید منور حسن مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی فکر اور اُن کے طرز سیاست کے قائل تھے، وہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت اور انتخابی اتحاد کے مخالف تھے، وہ جماعت اسلامی کے اپنے نام اور نشان پر انتخاب لڑنے کے حامی تھے، انہوں نے ہمیشہ وقت کے فرعونوں کو للکارا اور اُن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی، آپ مصلحت پسند نہیں تھے جس بات کو حق سمجھا اُس کا برملا اظہار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ منور حسن نے 1977ء کے انتخابات میں پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے اُس کے بعد آپ کو کسی انتخاب میں کامیاب نہیں ہونے دیا گیا۔ سعدعلی خان نے کہا کہ منور حسن صاحب وقت کی پابندی کرتے تھے اور باجماعت نماز تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا کرنے کا اہتمام کرتے اور اس کی تاکید کرتے، وہ مسلکی اور فروعی اختلافات کی عملی نفی کرتے تھے اور جہاں نماز کا وقت ہوتا کسی بھی مسلک کی مسجد ہوتی وہاں نماز ادا کرتے۔ شکیل خان نے کہا کہ میں منور حسن صاحب کو اپنا مرشد مانتا ہوں وہ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے۔ منور حسن صاحب نفیس طبیعت کے انسان تھے، بڑے خوبصورت انداز میں شائستگی کے ساتھ رہنمائی اور تربیت کرتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے