ٹھٹھہ (نمائندہ جسارت ) پی پی پی سجاول کے صدر محمد علی ملکانی نے ٹھٹھہ اور سجاول اضلاع میں مضبوط سیاسی گروپ شیرازی برادران کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، خفیہ ملاقات کرکے اپنی پوزیشن واضح کردی ہے، ملاقات اچانک ہوئی ہے کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی ہے ،محمد علی ملکانی۔ تفصیلات کے مطابق پی پی ضلع سجاول کے صدر محمد علی ملکانی نے کراچی میں عزیز میمن کی رہائش گاہ پر شیرازی گروپ کے سربراہوں سے ملاقات کی ہے، ملاقات کے دوران شیرازی گروپ کے سربراہ سید شفقت حسین شاہ، ایم این اے سید ایازشاہ شیرازی، ایم پی اے سید ریاض شاہ شیرازی،ایم پی اے شاہ حسین شاہ شیرازی سمیت ان کے قریبی حامی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق کچھ روز قبل سجاول میں ہونیوالی کھلی کچھری میں پی پی پی اور شیرازی برادران کے حامیوں کے درمیان ہونیوالی کشیدگی کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال پر ایم پی اے محمد علی ملکانی نے شیرازی برادران کو قصور وار قرار دیا تھا جس کے بعد ٹھٹھہ اور سجاول اضلاع میں پی پی پی اور شیرازی برادران کے حامیوں کے درمیان سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی تھی لیکن کراچی میں دونوں سیاسی رہنمائوں کے درمیان اچانک اور خفیہ ملاقات کے معاملات منظرعام پر آنے کے بعد پی پی پی سجاول کے رہنمائوں اور کارکنان نے بھی حیرت کا اظہار کیا ہے۔ پی پی پی سجاول کے صدر محمد علی ملکانی نے خفیہ ملاقاتوں کی خبریں منظرعام پر آنے کے بعد فیس بک اکائونٹ پر اس ملاقات کو ’’ اچانک ملاقات ‘‘ قرار دیا ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق پی پی پی سجاول ضلع کے صدر ایم پی اے محمد علی ملکانی کے آبائی حلقے جاتی میں چار کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے کرکٹ اسٹیڈیم کے افتتاح کا ایم این اے سید ایازعلی شاہ شیرازی نے کیا تھا اس بات کو لیکر پی پی پی سجاول کے صدر محمد علی ملکانی نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے تا ہم دونوں سربراہوں کے قریبی حامیوں نے اختلافات کو ختم کرنے پر زور دینے کے بعد پی پی پی سجاول ضلع کے صدر نے تنظیمی رہنمائوں سے مشاورات کیے بغیر شیرازی برادران سے ملاقات کرکے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔
ٹھٹھہ ،پی ایس ٹی اور جی ایس ٹی کے متاثرین کا اجلاس
ٹھٹھہ (نمائندہ جسارت) ٹھٹھہ کی کوہستانی پٹی سے تعلق رکھنے والے پی ایس ٹی اور جی ایس ٹی ٹیسٹ دینے والے متاترین امیدوار کا اجلاس نیشنل پریس کلب میں طلب کیا گیا ۔اجلاس میں متاثر ٹیسٹ امیدوار فرحان علی ترک،نوید پلیجو، مظفرترک، اعجاز دل، زوہیب حسین شاہ، عزیزکھڈائی ،محمد خان ترک اور شہاد لاشاری اور دیگر نے شرکت کرکے ایکشن کمیٹی تشکیل دی اور ٹھٹھہ کے سیاسی سماجی حلقوں سے رابطہ کرکے مرحلہ وار احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر اجلاس میں شریک ٹیسٹ امیدواروں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوہستانی کی یوسیز کو اساتذہ ٹیسٹ بھرتی پالیسیوں میں ہارڈ ایریا تسلیم کیا جائے ، ٹھٹھہ تحصیل کا بڑا حصہ کوہستانی پٹی پر مشتمل ہے اگر کوہستان کو ہارڈ ایریا میں شامل نہیں کیا گیا تو نوجوانوں کی حق تلفی ہوگی۔
