(حافظ محمد ہارون عباس)
یہ بات زبان زد عام ہے کہ ہندوستان میں آر ایس ایس اور اس کی حکومت نے ہمیشہ قبائلیوں کوآدیواسی (قبائلی)کے طورپر شناخت دینے کی بجائے بن واسی (جنگلی)کہا ہے ۔ کیونکہ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ مودی حکومت آدیواسیوں کو جنگلی قراردیکر ان کے قدرتی اور معدنی وسائل ہتھیاناچاہتی ہے ۔
یہ بات شاید عام قارئین کے لئے اہم نہ ہو، لیکن انڈیا میں آر ایس ایس اور ہندوتوا کے عزائم کو دیکھتے ہوئے یہ پوری طرح واضح ہے کہ یہ قبائلیوں کے تمدن اور بقا کے خلاف ایک ایسی سازش ہے جسے تاریخ کے طالب علم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
انڈیامیں مختلف کمیونٹیز آباد ہیں جن کا اپنا مذہب اور مختلف شناخت ہیں۔ قبائلی ، جنہیں آئین میں شیڈولڈ ٹرائب کہا جاتا ہے ، ایک الگ کمیونٹی بھی ہیں جن کا اپنا مذہب ، اپنے دیوتا اور ایک الگ ثقافت ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ، انہیں مقامی لوگ کہا جاتا ہے۔ ان کے مختلف جغرافیائی علاقے اوراپنی الگ شناخت ہے۔
بھارتی آئین میں بھی ان علاقوں کو قبائلی علاقے کہا گیا ہے اور ان کے لیے علیحدہ انتظامی بندوبست بھی موجودہے۔ اس نظام کے تحت ان علاقوں کا انتظام ریاست کے وزیر اعلی کے تحت نہیں بلکہ براہ راست گورنر اور صدر کے ماتحت ہوتا ہے جن کی مدد ایک قبائلی علاقائی کونسل کرتی ہے جس کا ایک الگ ڈھانچہ ہے۔ ان علاقوں میں دیہات کی سطح پر عام پنچایتی راج کے نظام کے بجائے ایک خاص پنچایتی نظام (شیڈولڈ ایریاز ایکٹ میں توسیع ،1996یعنی PESA )ہے۔ اس نظام میں پنچایت کو تمام قدرتی وسائل/معدنیات پر حق حاصل ہوتاہے اور ان سے حاصل ہونے والا منافع صرف گائوں کی ترقی پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کی ملی بھگت سے یہ نظام صرف چند قبائلی علاقوں میں نافذ کیا گیا ہے۔ زیادہ تر قبائلی علاقوں میں عام انتظامی بندوبست نافذ کر کے ان کااستحصال کیا جا رہا ہے ، جس کی مخالفت پر قبائلیوں کو مارا جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں قبائلیوں کو معدنیات نکالنے کے لیے بے گھر کیا جا رہا ہے۔ قبائلی اراضی کو جبری طورپر خالی کرا کے مختلف کارپوریٹس کو لیز پر دیا جا رہا ہے ۔ اس کے نتیجے میں پورا قبائلی علاقہ استحصال اور حکومتی دہشت کی لپیٹ میں ہے۔
مذکورہ وجوہات کی بنا پر ، آر ایس ایس قبائلیوں کو آدیواسی کی بجائے بن واسی (جنگل میں رہنے والے)قراردیتی ہے۔ کیونکہ انہیں آدیواسی کہہ کر وہ خود کو آریائی اور آدیواسیوں کو غیر آریائی (دیسی)سمجھنے پر مجبور ہوں گے۔ اوریہ آر ایس ایس کے ہندوتوا ماڈل کو ختم کردے گا جو انضمام کی بات کرتا ہے۔ اسی لیے آر ایس ایس مسلسل قبائلیوں کو ہندو بنانے میں مصروف ہے۔ اپنے ان عزائم کی تکمیل میں اسے بعض علاقوں میںکامیابی بھی ملی ہے جس کی آڑ میں غیر ہندووں پر حملے کئے جاتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عیسائی مشنریوں نے بھی کچھ قبائلیوں کو عیسائی بنایا ہے لیکن انہوں نے ان کا استعمال غیر عیسائیوں پر حملے کے لیے نہیں کیا۔آر ایس ایس کا بنیادی مقصد قبائلیوں کو ہندوتوا ماڈل میں ضم کرنا ہے ۔جس کے لئے انہیں آدیواسی کی بجائے ونواسی کہہ کر ان کو ہندو بنایاجارہا ہے اور غیر ہندووں کو دبانے کے لیے ان کا استعمال کیا جارہا ہے۔
بہت سی ریاستوں میں ، وہ قبائلی جو عیسائیت اختیا ر کر چکے ہیں ، انہیں گھر واپس لوٹنے اور انہیں ہندو بنانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ یہاں آر ایس ایس نے قبائلی علاقوں میں سنگل سکول قائم کر کے قبائلی بچوں کی ہندوائزیشن (جئے شری رام کا نعرہ اور رام کو دیوتا ماننا)شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ ، آر ایس ایس پہلے ہی کئی ونواسی آشرم چلا کر قبائلی بچوں کو ہندو بنانے کا کام کر رہی ہے۔ ملک کی بیشتر ریاستوں میں بی جے پی حکومتوں کے قیام کے ساتھ ہی یہ عمل اور بھی تیز ہو گیا ہے۔ آر ایس ایس قبائلیوں کو جنگل کا باشندہ قرار دے کر ان کے وجود سے انکار کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ نہ صرف قبائلیوں بلکہ پورے انڈیا کے تنوع کے لیے خطرہ ہے۔
