بھارتی وزیراعظم، خدا کا خوف کریں یہ ظلم بند کریں، کشمیر کو آزاد کریں، صدر مملکت
اکتوبر 27, 2021
القمر
صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ کشمیریوں کے دل ہمارے ساتھ دھڑکتے ہیں، جب کرکٹ میچ پر وہ ہماری خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں تو ان پر مقدمے کیے جاتے ہیں، بھارتی حکومت شرم کرو۔
27 اکتوبر 1947 کو بھارت کے کشمیر پر غیر قانونی قبضے کی یاد میں یومِ سیاہ کے موقع پر صدر مملکت نے اسلام آباد میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور اہم حکومتی شخصیات کے ہمراہ کشمیر ریلی میں شرکت کی۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بہت بڑی بات ہے کہ ظلم کے ان اندھیروں میں بھی وہ پاکستان کے ساتھ اپنی محبت اور جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں جس جوش و جذبے سے اسلام آباد سمیت پاکستان کے دیگر شہروں میں خوشیاں منائی گئیں، سری نگر میں اس سے زیادہ جذبات سے جشن ہوا، کشمیری بار بار دنیا کو اس کا وعدہ یاد دلاتے ہیں جو پورا نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنز کی وجہ سے سیکڑوں افراد اپنی بینائی سے محروم ہوئے، خواتین کے ریپ کیے جاتے ہیں، لوگوں کو محصور رکھا جاتا ہے، کشمیری رہنماؤں کو جیل بھیج دیا جاتا ہے، برسوں نظر بند رکھا جاتا ہے۔
صدر نے کہا کہ ہم کشمیری بھائیوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان آپ کا ہے، آپ ہمارے ہیں، آپ ہمارے بھائی ہیں، جو ظلم و ستم کی کہانی چل رہی ہے اس پر پاکستان عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہے کہ یہ تجارت کا معاملہ نہیں ہے، بھارت اگر جمہوریت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہاں جمہوریت نہیں ہے، وہاں ظلم کی داستانیں رقم ہورہی ہیں۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری بھائیوں کے ساتھ جو ہورہا ہے اس کی عکاسی بھارت میں دیگر اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم سے بھی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں بھارتی حکومت کو خبردار کرتا ہوں کہ مودی نے جس طرح گجرات میں مسلمانوں کے خلاف ظلم کیا اور جس انداز میں مسلمانوں کے خلاف بھارت کے دیگر حصوں میں ظلم کا سلسلہ جاری ہے، کشمیری مقابلہ کریں گے، کشمیری چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کشمیر میں آبادیاتی تناسب بدلنا چاہتی ہے جو ہم قبول نہیں کریں گے اور کشمیر میں انہیں ایسا کرنے نہیں دیا جائے گا۔
صدر مملکت نے کہا کہ یہ جو ظلم و ستم کی دستانیں اور دنیا کی کالی تاریخ کشمیریوں پر رقم کی گئی ہے، ہم پاکستانی ہر فورم پر آپ کا ساتھ دیں گے اور ہر جگہ آپ کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کشمیری خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری بہنوں اور ماؤں فکر نہیں کرو انشا اللہ آپ کی آزادی قریب ہے، ہم بھارت کی اس غلط فہمی کو ختم کریں گے کہ کشمیر اٹوٹ انگ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم ہوئی ان اصولوں کے مطابق نہ صرف کشمیر بلکہ جونا گڑھ، حیدرآباد دکن، مناودر پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا، کتنی ہی ریاستیں ہیں جن پر بھارت نے قبضہ کیا۔
صدر مملکت نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا خوف کریں یہ ظلم بند کریں، کشمیر کو آزاد کریں۔
انہوں نے کہا کہ جب ظلم کے اندھیرے بڑھ جاتے ہیں تو اللہ کا نظام ہے کہ روشنی کی کرن پھوٹتی ہے اور بھارت ظلم کر کے اپنی ریاست کی قبر کھود رہا ہے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کی تیاری کی جارہی ہے، ہمیں خطرہ اس بات کا ہے کہ وہ وہاں ظلم کریں گے، جس کے خلاف عوام اٹھیں گے جس کا الزام وہ ہم پر لگائیں گے۔
انہوں نے بھارت ہندوتوا راج کے تحت خود اپنی تاریخ بھی مٹانا چاہتا ہے اور نئی تاریخ اس کی کالی ہے۔
صدر مملکت نے بھارت کو خبردار کیا کہ ظلم بند کردو ورنہ تم اندر سے ہی تباہ ہوجاؤ گے، ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
‘سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عملدرآمد کروانا اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری ہے’
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ان کا حق خود ارادیت دلائے۔
کشمیر میں بھارتی افواج کے قبضے کی یاد میں یوم سیاہ کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اس دن سے بھارت کے غیر انسانی قبضے کے خلاف مزاحمت کی ان گنت قربانیوں کا آغاز ہوگیا تھا جو ابھی تک جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے غیر قانونی قبضے کا مطلب محکوم کشمیریوں کو آزادانہ اپنی خواہشات کے مطابق مستقبل کے تعین سے روکا جانا ہے لیکن بھارتی قابض افواج کی 7 دہائیوں کی جبری حکمرانی کے باوجود کشمیری مضبوط ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، پاکستان اور دیگر ممالک سے اس تنازع کے حل کے وعدوں کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے خلاف یک طرفہ کارروائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت عالمی قوانین، عالمی برادری، کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام نہیں کرتا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں آر ایس ایس نظریات کی حکمرانی ہے جس میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، اس کی قیادت حکمران جماعت بی جے پی کر رہی ہے جو کشمیریوں کو ان کے تسلیم شدہ حق خود ارادیت کے لیے آواز اٹھانے والے مظلوم کشمیریوں کو دبانے کیلئے مزید ظلم کے راستے اپنا رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے عسکری محاصرے، میڈیا بلیک آؤٹ اور دیگر یک طرفہ اور غیر قانونی پابندیوں کو 815 دن گزر چکے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان گزشتہ 2 سال سے بھارت کے ان اقدامات کی مخالفت کر رہا ہے، پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ، او آئی سی سمیت ہر فورم پر اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے اہم رہنماؤں کے ساتھ بھی دوطرفہ طور پر اٹھایا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 55 سال میں پہلی مرتبہ کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر غور لایا گیا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تین مرتبہ اس تنازع کو اٹھایا جس نے بھارت کی جانب سے اس کے اندرونی معاملے کے جعلی دعوے کا پول کھول دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی جانب سے بھارت کی مذمت اور چھان بین میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن یہ کافی نہیں، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کا سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پر امن حل ناگزیر ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے بھارت کو باز رکھنے، کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
بھارتی ظلم کے نتیجے میں کشمیریوں کا عزم مزید پختہ ہوا، وزیر خارجہ
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کشمیریوں کے لیے ایک تاریک ترین دن کی حیثیت رکھتا ہے، اس روز اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کی کشمیری عوام کی امنگوں اور آرزوؤں کا گلا گھونٹتے ہوئے بھارت نے غیرقانونی طورپر جموں و کشمیر پر قبضہ کیا تھا، اس غیر قانونی اقدام کی زہرناکی اور دھوکا دہی کی کڑوی یاد انسانیت کے ضمیر کو اب تک کچوکے لگا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری مسلسل محاصرے میں ہیں، ان کی قیادت پابند سلاسل ہے اور ان کے نوجوانوں کو ’چھاپوں اور تلاشی‘ کی کارروائیوں کی آڑ میں مسلسل نشانہ بنایاجارہا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ جبر واستبداد اور طاقت کے زور پر وہ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو دبا نہیں سکتا، حقیقت یہ ہے کہ بھارتی بے رحمی، جبر و استبداد کے نتیجے میں منصفانہ جدوجہد کے لیے کشمیریوں کا آہنی عزم مزید مضبوط اور پختہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارتی جبر و استبداد سے دنیا کو مسلسل آگاہ اور بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت سے خبردار کرتا آرہا ہے، موجودہ دور حکومت میں بھارت میں مسلمانوں کو خوف کی علامت بنا کربدنام کیا گیا، مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں اور نچلی ذات کے لوگوں کو مظالم کا نشانہ بنایاجارہا ہے اور ان سے امتیازی سلوک روا ہے۔