اسلام آباد(خبر ایجنسیاں )اسلامی نظریاتی کونسل نے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے معیارمقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔اسلام آباد میں ڈاکٹر قبلہ ایاز کی زیر صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس ہوا۔اجلاس کے دوران 12ربیع الاول پرملتان میں خاتون کو حور کے طورپرپیش کرنے پرارکان نے اظہار برہمی کیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ اسلام میں اس طرح خواتین کو حور بنا کر پیش کرنا انتہائی غلط اقدام ہے، مذہبی رسومات میں بازاری طرز کے اقدامات کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔اسلامی نظریاتی کونسل نے نعت خوانی، مرثیہ، قصیدہ اور نوحوں کو گانے کی طرز پر پیش کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے مذہبی رسومات اور مذہبی عقائد کی ادائیگی کے موقع پر ایک معیار مقرر کرنے کی تجویز دی۔اسلامی نظریاتی کونسل کے225ویں اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل نے دینی مدارس اور عصری تعلیمی ادارے اور جامعات سے متعلق اخلاقی حوالے سے سامنے آنے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور اس سلسلے میں دینی اور عصری تعلیمی اداروں میں اخلاقی اقدار کی بحالی کے لیے دینی مدارس کے وفاقوں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، وفاقی وزارت تعلیم اور صوبائی تعلیم کی وزارتوں کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا جس میںجامع لائحہ عمل اختیار کرنے کے لیے قومی تعلیمی کانفرنس بلانے کی تجویز دی جائے گی۔ کونسل نے وفاق ہائے مدارس کو بھی خطوط لکھنے کا فیصلہ کیا جس میں ان پر زور دیا جائے گا کہ وہ مدارس میں اس موضوع پر کھلے مکالمے اور مباحثے کی ابتدا کریں اور مفتی محمد تقی عثمانی اور دیگر جید علما کرام اس کی شروعات کریں، کیونکہ اس مسئلے کو دبانا حل نہیں بلکہ اس پر غور و فکر کر کے انسدادی لائحہ عمل بنانا ہی حل ہے۔ اجلاس میں فو جد اری قانون (ترمیمی)آرڈیننس 2020 کے تحت جنسی زیادتی کے مجرم کی آختہ کاری یعنی نامرد بنانے کے قانون کو غیر اسلامی قرار دیا اور رائے دی کہ اس کی جگہ متبادل موثر سزائیں تجویز کی جائیں۔ رویت ہلال پر قانون سازی کے بل کی کونسل نے تائید کی اور تجویز دی کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں رویت ہلال کے حوالے سے تربیتی سیشنز کا انعقادکیا جائے۔ تعلیمی اداروں میں عربی لازم کرنے کے بل 2020کی تائید کرتے ہوئے کونسل نے قرار دیا کہ عربی زبان کی تدریس کے لیے اقدامات کرنا دینی اور آئینی تقاضا ہے ۔ امید ہے یہ بل اس کی طرف پہلا قدم ثابت ہوگا ۔ مزید برآں کونسل نے یہ بھی تجویز دی کہ ثانوی تعلیمی اداروں میں بطور اختیاری مضمون فارسی ، ترکی اور چینی زبان کو بھی نصاب میں شامل کیا جائے۔ کونسل نے ملتان میں عید میلاد النبیﷺ کے دوران جلوس میں حورِ جنت کے نام پر کے جانے والے عمل کو نامناسب قرار دیا اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کر کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے اور آئندہ کے لیے ایسی نامناسب حرکتوں کے انسداد کو یقینی بنایا جائے۔
