فیصل آباد(وقائع نگار خصوصی)جماعت اسلامی حلقہ پی پی113کے امیرراناطہٰ خاں،جنرل سیکرٹری میاں طلحہ محمود،سیاسی کمیٹی کے صدر الطاف حسین جنرل سیکرٹری میاں عتیق الرحمن نے تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں پر ریاستی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لاٹھی اور گولی کے بجائے مذاکرات کا راستہ ا پنائے۔ قوم پی ٹی آئی کو کہہ رہی ہے کہ ٹی ایل پی سے جو معاہدے کیے گئے تھے ان کو پورا کرے اور اگر حکمران ایسا نہیں کر سکتے تو اپنے کیے پر قوم سے معافی مانگیں۔جماعت اسلامی کے رہنمائوںنے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے وفاقی کابینہ کے فیصلے کو غیر جمہوری اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔راناطہٰ خاںنے کہا کہ آئین پاکستان کے مطابق احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو یاد دلایا کہ جب وہ اپوزیشن میں تھے تو انہوں نے احتجاج کا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا 120دن کا حکومت مخالف دھرنا دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آج کس بنیاد پر پی ٹی آئی کی حکومت کسی دوسرے گروپ یا سیاسی جماعت سے یہ آئینی حق چھین رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ افہام و تفہیم سے مسئلے کا حل نکالے۔ ملک جو پہلے ہی حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے مسائلستان میں تبدیل ہو چکا ہے حالات کی مزید خرابی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔انہوںنے کہا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت خود اخلاقی حیثیت کھو چکی ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں حکمرانوں نے قوم سے کیا گیا ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔ صبح و شام جھوٹ بولنا اور مسلسل یوٹرن لینا موجودہ حکومت کا وطیرہ بن چکا ہے۔ قوم نے حکمرانوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ظلم و تشدد اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی۔ جماعت اسلامی پاکستان کو امن اور خوشحال دیکھنا چاہتی ہے۔
