واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے اسرائیل کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے میں 3ہزار نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری کے خلاف احتجاج کیا ،جس کے بعد امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کرگئی۔ ہے۔امریکی نیوز ویب سایٹ’ایکسیوز‘ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع کے ساتھ کشیدہ ماحول میں کی جانے والی فون کال کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے بات چیت کی۔ اسرائیلی میڈیا نے انتھونی بلنکن اور گینٹس کے درمیان ہونے والی کال کوسخت قرار دیتے ہوئے اسے امریکا کی جانب سے زرد کارڈ سے تعبیر کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ بلنکن نے بینی گینٹس کو بتایا کہ نئے تعمیراتی یونٹ کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ انہوں نے اس معاملے میں اسرائیلی وزیر دفاع سے نظر ثانی کا مطالبہ کیا۔اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ بستیوں کے بارے میں امریکی موقف ان کی توقع سے زیادہ سخت ہے۔، لیکن ساتھ ہی انہوں نے نشاندہی کی کہ تنقید بنیادی طور پر محکمہ خارجہ کی جانب سے ہوئی ہے ۔ بینی گینٹس نے بلنکن کو بتایا کہ وہ امریکی انتظامیہ کے خدشات کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ منظور شدہ مکانات کی تعداد کم کرنے کے لیے کام کریں گے۔ بینی گینٹس نے مزید کہا کہ انہوں نے مغربی کنارے کے اسرائیلی زیر انتظام علاقوں میں فلسطینیوں کے لیے ایک ہزار 300نئے ہاؤسنگ یونٹ بنانے کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔ واضح رہے کہ بائیڈن انتظامیہ اور تل ابیب کے درمیان پہلے مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی قونصل خانہ بحال کرنے سے متعلق تنازع چل رہا ہے اور اب بلنکن کی فون کال کے بعد یہ کشیدگی مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔
