English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

چین کے سرحدی قانون نے بھارت کی نیندیں اڑادیں

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باگچی نے چین کی جانب سے نئے سرحدی قانون پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی قانون ساز ی اور چین کے یک طرفہ فیصلے سے صورت حال بگڑ سکتی ہے۔ سرحدی علاقوں میں اضلاع کی تشکیل نو کی گنجائش موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سرحدسے متعلق عبوری معاہدوں، پروٹوکول اور انتظامات پر دستخط کررکھے ہیں اور بیجنگ کی جانب سے مثبت تعلقات کی امید کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ مئی 2020 ء سے جاری فوجی تعطل دور کرنے میں ناکامی کے لیے بھارت اور چین ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ چین کے نئے سرحدی قانون ’لینڈ بارڈرز لا‘ کے سلسلے میں نئی دہلی کا سخت ردعمل کچھ اسی طرح کا ہے جیسا ردعمل بیجنگ نے بھارت کی جانب سے اگست 2019ء میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے فیصلے پر کیا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اس وقت کہا تھاکہ بھارت کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کرتا اور دیگر ممالک سے بھی اسی طرح کی توقع رکھتا ہے۔چین کی سرحدیں 14 ممالک سے ملتی ہیں۔ اس نے بھارت اور بھوٹان کوچھوڑ کر بقیہ تمام ممالک سے اپنے سرحدی تنازعات حل کر لیے ہیں۔ بھارت اور چین کے درمیان تقریباً 3500 کلومیٹر طویل سرحد پر تنازع ہے۔ جوہری ہتھیار رکھنے والے دونوں پڑوسی اس طویل سرحد اور اس کے اطراف کے علاقوں پر اپنے اپنے دعوے کرتے ہیں۔ دونوں ممالک میں 1962ء میں جنگ بھی ہو چکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے