English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا تائیوان کارڈ کھیلنا بند کرے ، حالات سنگین ہو جائیں گے ، چین

القمر

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) تائیوان کے معاملے پر چین اور امریکا میں سیاسی تناؤ جاری ہے۔ چین نے کہا ہے کہ امریکا نے تائیوان کارڈ کھیلنا بند نہ کیا تو دونوں ممالک کے تعلقات خطرے میں پڑ جائیں گے۔ چینی دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا تائیوان کارڈ کھیلنا بند کرے، امریکا تائیوان کو اقوام متحدہ کا رکن بنانے کی کوشش کررہا ہے ۔ اس کے علاوہ واشنگٹن کی جانب سے تائیوانی فوج کی تربیت اور عسکری معاونت فراہم کرنے کے عزائم امریکی وعدے کی صریحاً خلاف وزری ہے۔ چین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تائیوان کو اقوامِ متحدہ میں شمولیت اختیار کرنے کوئی حق نہیں ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل صدر بائیڈن نے آسیان کانفرنس سے خطاب میں چین پر کڑی تنقید کی تھی۔ انہوں نے نے تائیوان سے متعلق چینی رویے کو امن کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بیجنگ کو نشست دینے اور تائی پے کو باہر نکالنے کے 50 سال برس مکمل ہونے پر ایک بیان میں امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے بھی کہا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ تائیوان کو عالمی سطح پر تیزی سے خارج کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو پیچیدہ عالمی مسائل کا سامنا ہے اور تمام ارکان کے لیے اہم ہے کہ ان مسائل کے حل میں مدد کریں ۔ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کے نظام اور بین الاقوامی برادری میں تائیوان کی مضبوط، بامعنی شرکت کی حمایت میں ہمارا ساتھ دیں۔ چین تائیوان کو ایک ایسا صوبہ سمجھتا ہے جس کے دوبارہ اتحاد کا انتظار ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اس کے لیے طاقت کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔ بلنکن کے بیان کے ردِ عمل میں چین کی طرف سے کہا گیا کہ تائیوان حکومت کی عالمی سیاسی اسٹیج پر کوئی جگہ نہیں ہے۔ اقوام متحدہ ایک بین الاقوامی حکومتی تنظیم ہے جو خودمختار ریاستوں پر مشتمل ہے ،جب کہ تائیوان چین کا ایک حصہ ہے۔ دوسری جانب تائیوان کے وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا ملک اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وزیر دفاع چھیو کوو چینگ کا کہنا ہے تائیوان اپنے دفاع کے لیے دوسرے ممالک پر انحصار کی پالیسی کو جاری نہیں رکھنا چاہتا۔ تائیوانی خاتون صدر کو یقین ہے کہ امریکا بھی اس معاملے میں تائیوان کا ساتھ دے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے