انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی کے اقوام متحدہ کے لیے مستقل نمایندے فریدون سنرلی اولو نے کہا ہے کہ ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں سے انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کا درس لینے کے محتاج نہیں ہیں۔فریدون سنرلی اولو نے ترکی سے شام میں انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کرنے کی اپیل پر چین کے اقوام متحدہ کے لیے معاون مستقل نمایندے گینگ شوآنگ کو کرارا جواب دیا۔ گینگ شوآنگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی شام سے متعلقہ نشست میں ترکی کو شام میں جاری کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ذمے دار ٹھیرایا۔ ترکی کے سفیر سنر لی اولو نے کہا ہے کہ ہم انسانی حقوق کے احترام کا سبق ایسوں سے نہیں لیں گے کہ جو خود انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاحدگی پسند دہشت گرد تنظیم وائی پے جی اور پی کے کے اور اسدی انتظامیہ اپنے ایجنڈے کے لیے اس معاملے کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان تنظیموں نے علاقے کے امن و امان میں خلل ڈالنے کے طریقے ڈھونڈ رکھے ہیں۔ 2ہفتے قبل عفرین میں بم حملے میں 6 شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ یہی نہیں بلکہ علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم عراق کے شامی یزدیوں اور شامی کردوں کی اپنی گھروں کو واپسی کے راستے میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے۔ سنر لی اولو نے کہا ہے کہ علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم کے حملے صرف شام تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ یہ تنظیم شام میں اپنی موجودگی کو ترکی کو ہدف بنانے کے بھی استعمال کر رہی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ترکی سمیت 43 ممالک نے اقوام متحدہ میں ایک مشترکہ اعلامیہ پیش کیا تھا۔ اعلامیے میں سنکیانگ اویغور خودمختار علاقے کے اویغور ترکوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر اندیشوں کا اظہار کیا گیا تھا۔ اعلامیے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین کا ترکی کو ہدف بنانا مرکزِ توجہ بن رہا ہے۔ چینی حکومت نے نیم خودمختار علاقے سنکیانگ میں مبینہ طور پر حراستی مراکز قائم کررکھے ہیں،جہاں ذہنی تربیت کے نام پر مسلمانوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس حوالے سے کئی بار آواز اٹھاچکے ہیں، تاہم بیجنگ حکومت کسی کو وہاں آزاد تحقیقات کی اجازت نہیں دیتی۔
