خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی افریقی ملک سوڈان میں حکومت کا تختہ الٹنے والی فوج نے بیرون ملک تعینات اپنے چھ سفیروں کو ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق فوجی حکومت نے یورپی یونین، امریکا، چین، فرانس اور قطر میں تعینات سفیروں کے ساتھ ساتھ جنیوا میں سوڈانی مشن کے سربراہ کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ کئی سوڈانی سفارت کاروں نے فوجی بغاوت کی مذمت کی تھی۔ مختلف ممالک میں متعین سوڈانی سفیروں نے ایک مشترکہ بیان میں جمہوریت نواز مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے ملک میں آزادی، امن اور انصاف پر مبنی جمہوری نظام کو مستقل بنیادوں قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ سوڈان کے سرکاری ٹیلی وژن نے بتایا ہے کہ فوج کے کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان نے 6 سوڈانی سفیروں کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق سوڈان کے 12 ممالک کے سفیروں بہ شمول امریکا، متحدہ عرب امارات، چین اور فرانس نے پیر کے روز سوڈان کی تازہ ترین پیش رفت کو مسترد کر دیا تھا۔ فوجی حکومت کے ایما پر سیکیورٹی فورسز نے کارکنوں اور فوج کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو نشانہ بناتے ہوئے گرفتاریوں کی مہم تیز کردی۔دوسری طرف سوڈان کی فوج پربیرون ملک ے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ افریقی یونین نے سوڈان کی رکنیت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ عالمی بینک نے شدید اقتصادی بحران میں پھنسے اس ملک کی امداد روک دی ہے۔ عبوری عمل میں اپنے شہری شراکت داروں کو بے دخل کرنے کے بعد یک طرفہ طور پر اقتدار سنبھالنے والی فوج نے برطرف وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کو، جنہیں پیر کے روز گرفتار کیا گیا تھا، کو ان کے گھر واپس بھیج کر بین الاقوامی تنقید کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
