English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ٹی ایل پی کا احتجاج جاری،وزیراعظم نے قومی سلامتی کا اجلاس بلالیا

گوجرانوالہ/اسلام آباد( خبرایجنسیاں+ مانیٹرنگ ڈیسک) تحریکِ لبیک کاناموس رسالت لانگ مارچ گوجرانوالہ پہنچ گیا۔ٹی ایل پی کارکنوں نے شہر کے وسط میں جی ٹی روڈ پر پڑاؤ ڈالا ہے۔ کامونکی سے روانگی کے بعد قافلے کے شرکا کو گورجرانوالہ تک کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کے بقول کالعدم جماعت کی غیر قانونی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے آج جمعہ کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔ جس میں قومی سلامتی سے متعلق دیگر امور بھی زیر غور آئیں گے،اجلاس میں مسلح افواج کے سربراہان،ڈی جی آئی ایس آئی ،وفاقی وزرا شرکت کریں گے ،وفاقی وزرا داخلہ اور مذہبی امور بریفنگ دیں گے ۔علاوہ ازیں ضلع گوجرانوالہ میں ایس ایچ او صدر کامونکی فرحت نواز کی مدعیت میں ٹی ایل پی کارکنوں کے خلاف پولیس پر تشدد اور لوٹ مار کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ، ڈکیتی،اغوا، اقدام قتل، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سمیت 16 دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔مقدمے میں جماعت کی مجلس شوریٰ کے اراکین سمیت 119 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ اس میں 2ہزار کے قریب نامعلوم افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔پولیس کا مؤقف ہے کہ پولیس کے اہلکار حکومت پنجاب کی ہدایت پر امن کو بحال رکھنے کے لیے ڈیوٹی پر موجود تھے کہ مظاہرین نے حملہ کر دیا اور پولیس سے شیل، گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، اینٹی رائٹ سامان سمیت دیگر اشیا چھین کر فرار ہو گئے۔ادھرتھانہ صدر مریدکے میں بھی سب انسپکٹر محمد امجد کی مدعیت میںٹی ایل پی کے مرکزی قائدین اور رکن سندھ اسمبلی قاسم فخری سمیت 8ہزار افراد کے خلاف دہشت گردی ،قتل ،ڈکیتی اوراغوا سمیت 19مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ۔ وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے ٹویٹر پر کہا ہے کہ تمام افراد اور گروہ جو سمجھتے ہیں کہ وہ ریاست کی رٹ چیلنج کر سکتے ہیں، اس کا تجربہ کرنے کی کوشش نہ کریں،تحریکِ لبیک نے سرخ لکیر عبور کر لی ہے اور وہ ریاست کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ۔معید یوسف کا کہنا تھا کہ قانون اپنا راستہ اپنائے گا اور دہشت گردوں سے دہشت گردوں کی طرح کا سلوک کیا جائے گا اور کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ بس بہت ہوگیا، ،حکومت یرغمال نہیں بنے گی، مارچ کو بہر صورت روکا جائے گا۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھاکہ آج جمعہ اور کل ہفتہ کو دوبارہ سعد رضوی سے دوبارہ بات ہو گی ۔مزید برآں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پیمرا نے تمام میڈیا اداروں کو پابند کیا ہے کہ تحریکِ لبیک پاکستان کالعدم جماعت ہے جو ‘دہشت گردانہ کارروائیوں’ میں ملوث ہے اور ملکی سلامتی اور امن کے خلاف کام کر رہی ہے، اس لیے تمام ٹی وی چینلز، ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز اور کیبل ٹی وی یا آئی پی ٹی وی آپریٹرز اس تنظیم کی کوریج روک دیں۔اعلامیے کے مطابق کالعدم تحریک لبیک کی میڈیا کوریج پر پابندی میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت لگائی اور میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015کے تحت کالعدم تنظیموں کی میڈیا کوریج ممنوع ہے۔پیمرا کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان کو 15 اپریل 2021کو کالعدم قراردیا ہے، وزارت داخلہ نے دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہونے پر ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیا۔ادھر بی بی سی کے مطابق خفیہ ادارے کے ایک اہلکار نے بتایاہے کہ جی ٹی روڈ پر گوجرانوالہ کینٹ، گکھڑ اور دیگر مقامات سے کنٹینر اور دیگر رکاوٹیں ہٹادی گئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس قافلے میں پولیس اہلکاروں سے چھینی گئی 4 موبائل گاڑیاں بھی شامل ہیں جبکہ لانگ مارچ کے شرکا اپنے ساتھ 3افراد کی لاشیں بھی لے کر چل رہے ہیں اور اہلکار کے بقول شرکا کا کہنا ہے کہ وہ ان افراد کی نمازِ جنازہ وزیر آباد میں جا کر پڑھیں گے۔اس فاقلے کی آمد سے قبل ہی گوجرانوالہ شہر اور جی ٹی روڈ کے گردونواح کے علاقوں میں اکثر مقامات پر موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھی۔حکام کے مطابق اس مارچ کا اگلا پڑاؤ وزیر آباد میں ہو سکتا ہے جہاں دریائے چناب کے دونوں اطراف رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور کنٹینرز لگا کر سڑکیں بلاک کر دی گئی ہیں۔مقامی پولیس کے مطابق مارچ کے شرکا کو روکنے کے لیے دریائے چناب سے قبل 16فٹ لمبی اور 12فٹ چوڑی خندق بھی کھودی گئی ہے۔بی بی سی کے مطابق گجرات شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی سیکورٹی سخت ہے اور لاہور سے آنے والے تمام راستے بند کر کے دریائے چناب کے پل پر کنٹینر لگا دیے گئے ہیں۔ شہر کے داخلی راستوں پر پولیس اور رینجرز تعینات کیے گئے ہیں۔ صوبہ پنجاب میں اس لانگ مارچ کے تناظر میں بدھ کی شام سے رینجرز کو تعینات تو کیا گیا ہے لیکن تاحال قافلے کے قریب رینجرز موجود نہیں ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لانگ مارچ کی وجہ سے ضلع گوجرانوالہ سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔اس قافلے کو روکنے کے لیے اسلام آباد کی جانب جانے والی شاہراہوں پر بھی جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔وفاقی انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد و راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد چوک کو چاروں جانب کنٹینرز لگا پر مکمل طور پر بند کر دیا گیا جبکہ راولپنڈی کی اہم شاہراہ مری روڈ پر بھی کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں۔دونوں شہروں میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے