English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

37 سالہ فرانسس ہوگن جس نے زکربرگ کو ناکوں چنے چبوا دئے، فیس بک نام بدلنے پر مجبور

ہندوستان میں فیس بک ، فیک بک(جعلی بک)ہے

نیویارک (ساوتھ ایشین وائر)سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی اپنا نام تبدیل کر کے Meta Platforms Inc کر دے گی۔ اس کا استدلال ہے کہ فیس بک کے نام میں وہ سب کچھ شامل نہیں ہے جو کمپنی اب کرتی ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب فیس بک کے بارے میں متعدد منفی پریشان کن معلومات گردش کر رہی ہیں جو اس کے سابق اہلکاروں کی جانب سے لیک دستاویزات کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سمجھا جا رہا ہے کہ فیس بک اس سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنا نام تبدیل کرنے جا رہی ہے۔فیس بک کی سابق ملازم فرانسس ہوگن نے کمپنی کے بارے میں کئی سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ میڈیا میں کئی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن کی بنیاد کمپنی کی اندرونی دستاویزات کمپنی کے اندر سے ہی سے لیک کی گئی ہیں۔ یہ دستاویزات فیس بک پیپرز کہلاتی ہیں۔
37 سالہ ہوگن نے امریکی ہاس کمیٹی کے سامنے سماعت کے دوران کئی انکشافات بھی کیے تھے۔ ان انکشافات کے بعد فیس بک کی مشکلات بڑھ گئیں۔
ہوگن نے تقریبا دو سال تک فیس بک کی سوک انٹیگریٹی ٹیم میں پروڈکٹ مینیجر کے طور پر کام کیا۔ ان کا کام پلیٹ فارم پر کئے جانے والے پروپیگنڈے پر نظر رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ پلیٹ فارم جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہ ہو۔ فیس بک پر کام کرنے سے پہلے، انہوں نے گوگل میں کام کیا، وہ Pinterest اور Yelp جیسی کمپنیوں میں کام کر چکی تھیں۔ 2010 میں ہارورڈ بزنس اسکول میں مینجمنٹ کی تعلیم کے دوران، انہوں نے ڈیٹنگ پلیٹ فارم سیکرٹ ایجنٹ کیوپڈ شروع کیا۔ بعد میں یہ مقبول ڈیٹنگ ایپ Hinge بن گئی۔ہوگن کا کہنا ہے کہ 2014 سے ان کا جنون سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا بند کرنا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا ایک خاندانی دوست سفید فام قوم پرست نظریات کو فروغ دینے والے آن لائن فورمز کا عادی ہو گیا تھا۔ چنانچہ 2018 میں، جب انہیں فیس بک سے نوکری کی پیشکش ہوئی، تو ہوگن کو محسوس ہوا کہ انہیں جمہوریت اور پروپیگنڈے سے متعلق کام کی ضرورت ہے۔ 2019 میں، اس نے کمپنی کی سوک انٹیگریٹی ٹیم میں شمولیت اختیار کی، جو دنیا بھر میں انتخابی مداخلت کی نگرانی کرتی ہے۔ لیکن 2020 میں امریکی صدارتی انتخابات کے بعد اس ٹیم کو ختم کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی کا اشتہارات پر مبنی کاروباری ماڈل زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پلیٹ فارم سے منسلک رہنے پر مجبور کرتا ہے اور کمپنی نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے منفی ہتھکنڈوں کا سہارا لیا۔ کمپنی کی قیادت اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام کو کیسے محفوظ بنایا جا سکتا ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔ اسے لوگوں کی زندگیوں سے زیادہ اپنے منافع کی فکر ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کمپنی کے آدھے سے زیادہ ووٹنگ شیئرز کے مالک ہیں اور کمپنی کو چلانے کے ذمہ دار ہیں۔ کچھ قانون سازوں اور ناقدین نے فیس بک کو توڑنے کی وکالت کی ہے، لیکن ہوگن نے کہا کہ کمپنی کو اس کے بجائے تبدیلیاں کرنے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔ اس سے کمپنی کے منافع پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ایک اور انکشاف میں، ہوگن نے کہا کہ ہندوستان میں یہ پلیٹ فارم فیک بک(جعلی بک) کی ایک شکل ہے۔
ہوگن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سوک انٹیگریٹی ٹیم کے ختم ہونے کے بعد ہی فیس بک پر ان کا اعتماد ڈگمگانے لگا۔ ٹیم کے کام کو مختلف شعبوں میں تقسیم کیا گیا۔ کمپنی پروپیگنڈے کو روکنے کے لیے زیادہ کوششیں نہیں کر رہی تھی۔ کمپنی کا زور زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے پر تھا۔ انہوں نے یہاں تک دعوی کیا کہ فیس بک کا استعمال 6 جنوری کو واشنگٹن میں ہونے والے فسادات کی منصوبہ بندی میں کیا گیا تھا۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ستمبر میں، ہوگن نے امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے پاس تقریبا آٹھ شکایات درج کروائیں۔ فیس بک پر الزام لگایا گیا کہ وہ اپنی خامیاں چھپا رہا ہے۔یورپی یونین اور آسٹریلیا نے جس طرح فیس بک پر دبا وڈالا اس سے فیس بک کو خطرہ ہے۔ آسٹریلیا قانونی طور پر انٹرنیٹ میڈیا پلیٹ فارمز بشمول فیس بک کی نگرانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے لیے قانون تیار کیا جا رہا ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر 75 لاکھ ڈالر تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ فرانس میں بھی فیس بک کو مقامی میڈیا کمپنیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ فیس بک پر شیئر کی جانے والی خبروں اور مضامین کے کاپی رائٹ سے متعلق ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے