پاکستان ٹیلی ویژن انتظامیہ نے پی ٹی وی اسپورٹس پر پیش ہونے والے واقعے کی انکوائری مکمل ہونے تک شعیب اختر اور میزبان ڈاکٹر نعمان نیاز دونوں کو آف ایئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان ٹیلی ویژن کی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق واقعے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے انکوائری مکمل ہونے تک سابق کرکٹر شعیب اختر اور ڈاکٹر نعمان نیاز کو آف ایئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ انکوائری مکمل ہونے اور واقعے سے متعلق حقائق واضح نہ ہونے تک دونوں افراد پی ٹی وی کے کسی بھی پروگرام کا حصہ نہیں ہوں گے۔
شعیب اختر نے اس پیشرفت پر ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے 22 کروڑ پاکستانیوں اور دنیا بھر کے اربوں لوگوں کے سامنے استعفیٰ دیا، کیا پی ٹی وی پاگل ہو گیا ہے، یہ مجھے آف ایئر کرنے والے کون ہوتے ہیں۔
اس سے قبل سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے پی ٹی وی اسپورٹس پر پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں انکوائری کیمٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا تھا۔
حال ہی میں قومی اسپورٹس چینل پر پیش آنے والے تضحیک آمیز واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی نے شعیب اختر کو حقائق جاننے اور ان کا مکمل مؤقف جاننے کے لیے طلب کیا تھا لیکن انہوں نے کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نعمان نیاز کے معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گا کیونکہ جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے لہٰذا ویڈیوز دیکھ کر فیصلہ کیا جائے۔
اس واقعے پر پروگرام کے میزبان ڈاکٹر نعمان کی تمام حلقوں کی جانب سے مذمت کی گئی اور سیاستدانوں، صحافیوں اور عوام کی جانب سے شعیب اختر کی مکمل سپورٹ اور ان سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
Full Clip of the Phadda between Dr Nauman Niaz and Shoaib Akhtar https://t.co/jHh9JkZ2OC pic.twitter.com/J5hAE8XbBT
— Basit Subhani (@BasitSubhani) October 26, 2021
وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی جائے گی جس کے بعد پی ٹی وی انتظامیہ نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ سینیٹر فیصل جاوید نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کو کمیٹی کے سامنے اٹھانے کا اعلان کیا۔
انہوں نے پی ٹی وی کے پروگرام میں اس رویے کی مذمت کرتے ہوئے سرکاری نشریاتی ادارے سے اپنی روایات کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔
سینیٹر فیصل جاوید نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ صرف ہمارے ہیروز کی بات نہیں، یہ ہمارے وقار کا معاملہ ہے، یہ ہمارے ریاستی نشریاتی ادارے کا بھی معاملہ ہے، بہت غیر پیشہ ورانہ رویہ اختیار کیا گیا، جب ہر کوئی پاکستان کی تعریف اور ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کا اعتراف کر رہا تھا تو آپ ایسا کیوں کریں گے؟ اپنے ہیروز کا احترام کریں۔
شعیب اختر کے ساتھ کیا واقعہ رونما ہوا تھا؟
خیال رہے کہ 26 اکتوبر کی شب کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ میچ کے دوران شعیب اختر پی ٹی وی اسپورٹس کے پروگرام ’گیم آن ہے‘ میں شریک ہوئے تھے۔
شو کے میزبان ڈاکٹر نعمان نیاز نے شعیب اختر سے ایک سوال کیا لیکن ان کے تجزیے کے دوران ہی اینکر نے تلخ رویہ اپناتے ہوئے انہیں شو چھوڑ کر جانے کو کہا تھا اور بعدازاں شعیب اختر شو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
پروگرام میں تجزیہ کرتے ہوئے شعیب اختر نے قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی حارث رؤف کی تعریف کی اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم لاہور قلندرز کو کریڈٹ دینے کی بات کی لیکن انہوں نے بعدازاں غلطی سے شاہین شاہ آفریدی کا نام لے لیا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’عاقب جاوید شاہین آفریدی کو لے کر آئے اور انہیں پلیئر ڈیولپمنٹ پروگرام کا حصہ بنایا‘ جس پر نعمان نیاز نے شعیب اختر کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا کہ ’شاہین آفریدی پاکستان کے لیے انڈر 19 کھیل چکے تھے‘۔
اس پر شعیب اختر نے کہا تھا کہ ’میں حارث رؤف کی بات کر رہا ہوں‘ جس پر نعمان نیاز نے اپنی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’شاہین شاہ آفریدی پہلے پاکستان کے لیے کھیل چکے تھے‘۔
اینکر کی مذکورہ بات کے جواب میں شعیب اختر نے کہا تھا کہ ’سر پلیز! سم بڈی کیم ٹو دا ورک‘، لیکن شو کے اینکر ڈاکٹر نعمان نیاز نے اچانک تلخ رویہ اپناتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپ بدتمیزی کررہے ہیں، میں یہ نہیں کہنا چاہتا تھا لیکن آپ اوور اسمارٹ ہو رہے ہیں تو چلے جائیں میں یہ آن ایئر کہہ رہا ہوں‘۔
بریک سے واپس آنے کے بعد اینکر نعمان نیاز نے سوال بدل دیا تھا مگر شعیب اختر نے انہیں روکا تھا اور کہا تھا کہ ’میں آپ کے خلاف کیس نہیں بنا رہا تھا بلکہ حارث رؤف کے بارے میں بات کر رہا تھا جو لاہور قلندرز کی دریافت ہے اور وہ انڈر 19 سے نہیں آئے تھے’۔
شعیب اختر نے ان سے کہا تھا کہ ’مسکرائیں، اور جو بھی ہوا، اس پر معذرت کریں جس کے جواب میں نعمان نیاز نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ جاری رکھیں’۔
Multiple clips are circulating on social media so I thought I shud clarify. pic.twitter.com/ob8cnbvf90
— Shoaib Akhtar (@shoaib100mph) October 26, 2021
