English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ماہی گیری تبازع پر بر طانیہ اور فرانس میں کشیدگی

القمر

پیرس/لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین کے اہم رکن ملک فرانس نے اہم بندر گاہوں پر برطانوی ماہی گیروں کی کشتیوں پر پابندیا ں عائد کر دیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فرانس اور برطانیہ کے پانیوں میں ماہی گیری کے لائسنس کا تنازع شدت اختیار کرچکا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فرانس نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے ماہی گیروں کو برطانوی پانیوں تک رسائی نہ دی گئی تو برطانیہ کے ساتھ آیندہ ہفتے سے تجارتی معاملات تعطل کا شکار ہو جائیں گے۔ اس سلسلے میں فرانس نے اہم بندرگاہوں پر برطانوی ماہی گیروں کی کشتیوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں اور ساتھ ہی کراس چینل تجارت پر بھی گہری نظر رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانسیسی حکام نے دھمکی دی ہے کہ اگر کشتیوں کے اجازت نامے کا مسئلہ حل نہ ہوا تو فرانس سے برطانیہ کو بجلی کی فراہمی بھی معطل کردی جائے گی۔دوسری جانب برطانیہ نے فرانسیسی فیصلے کو مایوس کن اور غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرانس کا یہ اقدام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔خبررساں اداروں کے مطابق ا سے قبل فریقین نے اس تنازع کے حل کے لیے بات چیت پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ فرانس کے وزیر زراعت ژولین ڈینورمنڈی نے ملکی ٹیلی وژن چینل کو بتایا کہ بریگزٹ کے بعد پیدا ہونے والے ماہی گیری کے تنازع پر برطانیہ کے ساتھ بات چیت ابھی تک تعطل کی شکار ہے۔ فرانس نے دھمکی دے تھی کہ تنازع برقرار رہا تو وہ لندن حکومت پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ اور فرانس ماہی گیری کے اجازت ناموں کے اجر پر تنازع کا شکار ہیں۔ رودباد انگلستان میں مچھلیاں پکڑنے کے معاملے پر برطانوی اور فرانسیسی تعلقات میں تناؤ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اس سے پہلے برطانیہ نے اپنی ایک کشتی کو تحویل میں لینے پر پیرس حکومت کی مذمت کی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ اس معاملے برطانیہ کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے۔ برطانوی وزیر ماحولیات نے پارلیمان کو بتایا کہ انہوں نے اس متنازع معاملے پر یورپی یونین کی متعلقہ کمشنر سے بات بھی کی ہے۔ فرانس کے وزیر برائے یورپ کلیمنٹ بیوں کا کہنا ہے کہ رودباد انگلستان کے پار جانے والی تمام اشیا کی پڑتال اور نگرانی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کے بعد سے سمندری حدود دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا باعث بنی ہوئی ہیں اور لندن حکومت بریگزٹ کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ اس سے قبل فرانسیسی انتظامیہ نے بندرگاہ لی ہاورے کے پاس فرانسیسی حدود کے اندر مچھلیوں کا شکار کرنے والی 2برطانوی کشتیوں کو تنبیہ جاری کی تھی۔ بدھ کی شب کشتیوں کو وارننگ جاری کی گئی اور ایک کشتی کو تحویل میں لے کر بندرگاہ لے جایا گیا۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ کشتی کے کپتان اور عملے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے