واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی محکمہ خزانہ نے لبنان میں قانون کی حکمرانی میں دخل انداز ہونے کے الزام میں 2شخصیات اور پارلیمان کے ایک رکن کے خلاف پابندیاں عائد کردی ہیں۔ ان پر مالی بدعنوانیوں کے سنگین الزامات بھی عاید کیے گئے ہیں۔ ملزمان میں سابق وزیراعظم سعدالحریری کا حمایت یافتہ ایک کاروباری شخص بھی شامل ہے۔ محکمہ خزانہ نے لبنان کے تاجرجہاد العرب، دانی خورے اور رکن پارلیمان جمیل سید پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے ان کے نام ناپسندیدہ افراد کی فہرست میں شامل کر لیے ہیں۔ ان میں دانی خورے پہلے سے امریکی پابندیاں کا شکارسابق وزیرخارجہ جبران باسیل کے قریب سمجھتے جاتے ہیں۔ محکمہ خزانہ نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان کی کاروباری اور سیاسی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جارہا ہے۔ محکمہ خزانہ کی ترجمان اینڈریا گاکی نے کہا کہ لبنانی عوام ان تاجروں اورسیاست دانوں کی جاری مقامی بدعنوانیوں کے استحساب کے مستحق ہیں، جنہوں نے اپنے ملک کوایک غیرمعمولی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ضروری اقتصادی اصلاحات نافذ کی جائیں اور لبنان کی بنیادوں کوختم کرنے والے بدعنوان طریقوں کا قلع قمع کیاجائے۔ محکمہ خزانہ لبنان میں لاقانونیت سے نمٹنے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرنے میں کوئی دریغ نہیں کرے گا۔ادھر وزیرخارجہ انتھونی بلنکن نے کہا کہ امریکا تینوں افراد کے خلاف لبنانی عوام کے ساتھ یک جہتی کے طور پرپابندیوں کی منظوری دے رہا ہے ، جو طویل عرصے سے جواب دہی، شفافیت اور مقامی بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں۔محکمہ خزانہ کا کہنا تھا کہ ملزم جہادالعرب نے سرکاری عہدے داروں کو ذاتی مفادات کے بدلے میں ٹھیکے دینے کی منظوری دی تھی۔ یاد رہے کہ جہادالعرب نے رواں سال کے اوائل میں اعلان کیا تھاکہ وہ لبنان میں اپنا کاروبار بند کررہے ہیں اورملک چھوڑکرکہیں جارہے ہیں۔محکمہ خزانہ کے مطابق وہ 2016 ء میں لبنان میں منعقدہ صدارتی انتخابات سے قبل اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں ثالث کا کردار ادا کرتے رہے تھے۔
