مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل میں سابق وزیراعظم نیتن یاہو کے جانے کے بعد نئی حکومت میں پھوٹ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اسرائیلی ٹی وی چینل 12نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وزیر اعظم نفتالی بینیت نے توقع ظاہر کی کہ اگست 2023ء میں یائر لیپد کے وزیر اعظم بننے سے قبل ہی موجودہ حکومت ختم ہو جائے گی۔یائر لیپد اس وقت اسرائیل کے وزیر خارجہ ہیں۔ اقتدار کی باری سے متعلق طے پائے گئے معاہدے کی رو سے انہیں اگست 2023ء میں وزارت عظمی کا منصب سنبھالنا ہے۔ چینل 12 کے مطابق نفتالی بینیت کا کہنا ہے کہ میرے اندازے کے مطابق اگلی باری نہیں آ سکے گی۔ بجٹ کی منظوری سمیت مختلف وجوہات کی بنا پر اس بات کا بڑا امکان ہے کہ حکومت تحلیل کر دی جائے۔ٹی وی چینل نے اپنے رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ بینیٹت نے یہ بیان گزشتہ ماہ ایک بند کمرے کے اجلاس میں دیا تھا۔ دوسری جانب نفتالی بینیت کے دفتر نے ٹائمز آف اسرائیل کو دیے گئے بیان میں رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اقتدار کی باری سے متعلق معاہدے کا پورا احترام کریں گے۔ دفتر کے مطابق بجٹ معمول کے مطابق منظور ہو گا اور شراکت داری جاری رہے گی۔نفتالی بینیت نے یائر لیپد کو شان دار وزیر خارجہ قرار دیا اور ان کے ساتھ شراکت داری کو خوب سراہا۔ انہوں نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر کی گئی ٹویٹ میں کہا کہ حالیہ رپورٹیں میرے موقف کے خلاف ہیں اور یقینا یہ میری سمجھوتے کی پاسداری کی حقیقت کی بھی عکاسی نہیں کر رہی ہیں۔ادھر یائر لیپد نے اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا کہ انہوں نے جمعرات کے روز بینیت سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے اپنے اور بینیت کے بیچ پھوٹ پیدا کرنے کی کوششوں کو سختی سے مسترد کر دیا۔ لیپید کا کہنا تھا کہ ان کا اور وزیراعظم کا مقصد ایک ہے اور وہ ہے بجٹ کی منظوری اور حکومت کو تقویت دینا۔ واضح رہے کہ موجودہ حکمراں اتحاد کے باقی رہنے کے لیے ضروری ہے کہ 14 نومبر تک بجٹ منظور کرلیا جائے۔
