خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان میں حکوت پر قبضہ کرنے والی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح برہان کا کہنا ہے کہ وہ ایک ہفتے میں ایک نیا وزیر اعظم نامزد کر دیں گے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ نئی حکومت ٹیکنوکریٹ ہوگی۔ انہوںنے یہ بات روسی جریدے اسپٹنک کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نئے وزیر اعظم کابینہ کو تشکیل بھی دیں گے۔ جنرل برہان کا کہنا تھا کہ ایک محب وطن کے طور پر ان کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کی اس عبوری حکومتی دور میں الیکشن کے انعقاد تک مدد کریں۔ اپنے انٹرویو میں سوڈانی فوج کے جنرل نے ممکنہ وزیر اعظم کا نام بتانے سے گریز کیا۔ دوسری جانب امریکا اور اقوام متحدہ نے سوڈان میں نئی فوجی کونسل پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس سے قبل سلامتی کونسل نے ملک میں عبوری حکومت کی بحالی پر زور دیا تھا جو پیر کے روز تحلیل کر دی گئی تھی۔ امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک کی طرح ان کا ملک بھی سوڈان میں مظاہرین کے ساتھ کھڑا ہے۔ اپنے ایک بیان میں بائیڈن نے سوڈان میں عبوری شہری حکومت کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوڈان میں عسکری کونسل کے حکام کے لیے ہمارا واضح اور بھرپور پیغام ہے کہ سوڈانی عوام کو پر امن احتجاج کی اجازت دی جائے اور شہری قیادت کے زیر اہتمام عبوری حکومت کو بحال کیا جائے ۔ خبررساں اداروں کے مطابق بائیڈن حکومت نے سوڈان میں فوج کی جانب سے 25 اکتوبر کو ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد سے خرطوم کے لیے امداد منجمد کر دی ہے۔ واضح رہے کہ سوڈانی فوج کے کمانڈر عبدالفتاح البرہان نے پیر کے روز حکومت تحلیل کر دینے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے جمعرات کے روز تصدیق کی تھی کہ وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے مشاورت جاری ہے۔ مزید یہ فوج نئی حکومت کی تشکیل کے لیے وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔
