English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جرمنی میں مہنگائی 28 برس کی بلند ترین سطح پر

القمر

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمنی میں افراط زر کی شرح میں مسلسل چوتھے ماہ بھی اضافہ دیکھا گیا۔ یہ شرح اس وقت 4.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اشیا کی قیمتوں میں ہونے والے اس ہوش ربا اضافے کا تعلق یورپ میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ہے ،جس سے شہری سخت پریشان ہیں۔ 1993 ء کے بعد قیمتوں میں اضافے کے حالیہ رجحان کو بہت تیز قرار دیا گیا ہے اور اس میں توانائی کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں برس جولائی سے افراطِ زر کی شرح بتدریج بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کا امکان ہے کہ آیندہ سال اس شرح میں کمی واقع ہو گی۔ یاد رہے کہ 1993 ء میں جرمنی میں افراط زر کی شرح 4.5فیصد ہو گئی تھی۔ 4ماہ کے دوران یورپ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اسے بھی طلب میں اضافے کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ ایک بینک ایل بی بی ڈبلیو کے سینئر اکانومسٹ ژینس اولیور نکلاش کا کہنا ہے کہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافے کی ایک سب سے بڑی وجہ حکومت کی جانب سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی عارضی معطلی اور پھر دوبارہ بحالی ہے۔ ژینس اولیور نکلاش کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگلے برس بھی افراطِ زر کی شرح میں کمی کا امکان قدرے کم دکھائی دیتا ہے اور صارفین کو بازاروں اور مارکیٹوں میں خریداری کے دوران مہنگائی کا سامنا رہے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کورونا وبا سے پیدا ہونے والے اقتصادی بحران کے منفی اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے