سوشل نیٹ ورک کے بانی مارک زکربرگ نے یہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فیس بک کی پیرنٹ کمپنی کا نیا نام ہے۔
نام میں تبدیلی یا ری برانڈنگ کا مقصد سوشل میڈیا نیٹ ورک کی جانب سے میٹا ورس کی اہمیت کو ظاہر کرنا بھی ہے جسے مارک زکربرگ نے انٹرنیٹ کا مستقبل قرار دیا ہے۔
اس تبدیلی کے بعد اب فیس بک سائٹ یا ایپ اس کمپنی کا مرکز نہیں رہی بلکہ انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی طرح ایک ذیلی شاخ بن گئی ہے مگر سوشل نیٹ ورک کا نام بدستور فیس بک ہی رہے گا۔
مارک زکربرگ میٹا کے سی ای او اور چیئرمین ہوں گے یعنی مکمل کنٹرول ان کے پاس ہی ہوگا۔
بنیادی طور پر یہ نیا نام کمپنی کے اندر ہونے والی تبدیلیوں کا اظہار کرتا ہے اور مارک زکربرگ کی جانب سے کچھ دن قبل 2021 میں ہی میٹاورس کے لیے 10 ارب ڈالرز خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
کمپنی کے ورچوئل اور اگیومینٹڈ رئیلٹی کانفرنس کنکٹ کے دوران مارک زکربرگ نے سوشل میڈیا نیٹ ورک کے نئے نام کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں ایک سوشل میڈیا کمپنی کے طور پر دیکھا جاتا ہے مگر ہم ایک ایسی کمپنی ہے جو لوگوں کو جوڑنے والی ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکٹھے مل کر لوگوں کو ٹیکنالوجی کے مرکز میں لاسکتے ہیں اور اکٹھے مل کر ہم زیادہ بڑی معیشت کو تشکیل دے سکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارا برانڈ ایک پراڈکٹ (فیس بک) سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے، مگر وقت کے ساتھ توقع ہے کہ ہمیں ایک میٹا ورس کمپنی کے طور پر دیکھا جائے گا۔
WATCH: Sneak Peek at Facebook metaverse pic.twitter.com/rUGGiJeMLr
— Insider Paper (@TheInsiderPaper) October 28, 2021
