ریاض ؍ منامہ (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب اور بحرین نے لبنان کے سفیروں کو فوری طور سے ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ لبنانی وزیر اطلاعات و نشریات نے سعودی قیادت میں جاری یمن جنگ پر تنقید کی تھی، جس کے بعد یہ سخت قدم اٹھایا گیا۔ سعودی عرب نے لبنان کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس نے لبنان سے تمام تر درآمد کی جانے والی اشیا پر بھی مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور لبنان میں اپنے سفیر کو بھی مزید مشاورت کے لیے بھی طلب کیا ہے۔ وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ لبنان کے وزیر اطلاعات کے توہین آمیزبیانات کے سبب بیروت میں اپنے سفارت کار کو مشاورت کے لیے واپس طلب کیا گیا ہے ۔ بیان میں کہا گیاکہ ریاض حکومت لبنان کے ساتھ تعلقات کے نتائج پر افسوس کا اظہار کرتی ہے، کیوں کہ لبنانی حکام حقائق کو نظر انداز کرتے رہے ہیں اور اس سے متعلق انہیں جو اصلاح کرنی چاہیے تھی اس میں بھی انہوں نے مسلسل ناکامی دکھائی ہے۔اس اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی بحرین کی وزارت خارجہ نے بھی لبنان کے سفیر کو 2دن کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ۔ بحرین کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ لبنانی حکام کی طرف سے جاری کردہ ناقابل قبول اور جارحانہ بیانات کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عرب ممالک لبنان کے بائیکاٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہاں کا معاشی بحران مزید شدت اختیار کرتا جائے گا۔ خبررساں اداروں کے مطابق لبنان کو کو سالانہ ڈیڑھ ارب کے نقصان کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ سعودی عرب کی جانب سے پابندیوں کا اعلان ہے۔ لبنان کی 30فیصد برآمدات خلیجی ممالک کو جاتی ہیں ، جن کی مجموعی مالیت 3.3 ارب ریال بنتی ہے۔ اس میں سے 44 برآمدات کی منزل سعودی عرب ہے ، جن کی مالیت 1.5 ارب ہے۔ اس فہرست میں امارات دوسرے اور کویت تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے مقابل رواں سال کے ابتدائی 5ماہ میں ایران کے لیے لبنانی برآمدات کا حجم بہت کم70 لاکھ ڈالر رہا۔ واضح رہے کہ لبنان کے وزیر اطلاعات نے اپنے ایک بیان میں، یمن میں مسلح حوثی باغیوں کے خلاف سعودی قیادت میں جاری جنگ پر تنقید کی تھی اور اس جنگ کو سعودی جارحیت کا نتیجہ قرار دیا تھا،جسکے بعد سعودی حکومت نے ان سخت اقدامات کا اعلان کیاہے۔
