لاہور: پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) کے سینئر وائس چیئرمین ناصر حمید خان اور وائس چیئرمین جاوید اقبال صدیقی نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کم کرنے کیلئے حقیقی معنوں میں عملی اقدامات کئے جائیں، بڑھتی مہنگائی سے معاشی نشو نما متاثر ہو رہی ہے۔
کاروباری طبقہ پریشان ہے ،متعلقہ حکام اس پر ایکشن لیں تاکہ مہنگائی میں بتدریج کمی ہوسکے، حکومت ضروریات زندگی کی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کو کنٹرول کرنے کیلئے انکی قیمتوں کو کم کر کے منجمد کریں اور اس پر سختی سے عمل کروائیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 16جون سے ابتک 6 بار اضافہ کیا جا چکا ہے جو مہنگائی میں اضافے کا باعث ہے، فیول کی قیمتیں بڑھنے سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
فیول کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ بند کیا جائے، اس تناظر میں مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے اورپرائس کنٹرول میکانزم کادائرہ کار بلا تفریق پورے صوبے میں پھیلایا جائے تاکہ گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پایا جاسکے تاکہ عوام کے ساتھ ساتھ تاجر برادری کو بھی ریلیف مل سکے۔
دوسری جانب ناصر حمید خان نے کہا کہ حکومت دوسری طرف لوگوں کی قوت خریدمیں بھی اضافہ کرے تاکہ ڈالر پٹرول بجلی اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کے ساتھ عام آدمی پر اتنا فرق نہ پڑے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نجی اور سرکاری سطح پرکام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے بھی انتظام کرے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا اثر زائل ہو سکے۔
پیاف عہدیداران نے کہا ہے کہ ملک میں کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافے نے صنعت کاروں اور تاجروں کی زندگی کو اور بھی مشکل بنا دیا ہے، ملک میں پیداواری لاگت کے بڑھنے کی وجہ سے انڈسٹریز اور ٹریڈرز کو بتدریج نقصان پہنچ رہا ہے۔
صنعتی و تجارتی پالیسیز میں صنعتوں کو بجلی و گیس کے ٹیرف پر ریلیف دیا جائے کیونکہ بڑھتے ہوئے بے جا ٹیکس اور گیس و بجلی کی قیمتوں میں خطے کے دیگر ممالک کی نسبت اضافہ سے اشیاء کی پیداواری لاگت دن بدن بڑھ رہی ہیں جس سے بالواسطہ طور پر عوام متاثر ہورہی ہے۔

