
اگر تلا (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی ریاست تریپورہ میں مسلمانوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ہندو انتہا پسندوں نے کئی مساجد کی بے حرمتی کی اور مسلمانوں کی املاک جلادیں۔ بنگلا دیش کی سرحد سے متصل بھارتی ریاست تریپورہ گذشتہ ایک ہفتے سے تشدد کی لپیٹ میں ہے ، جہاں بسنے والے مسلمانوں پر حملے کیے جارہے ہیں اور ان کے کاروبار سمیت مساجد پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ایک درجن سے زائد مساجد میں توڑ پھوڑ کی گئی اور کئی مقامات پر نذر آتش کرنے کی اطلاعات بھی ہیں۔ اس دوران بڑی تعداد میں مسلمانوں کے مکانات اور دکانوں کو نذر آتش کرکے ان کے کاروبار تباہ کردیے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مسجدوں اور مسلمانوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات پر اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے مودی سرکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو مذہب کے نام پر نفرت اور تشدد کرنے والے ہندو نہیں، منافق ہیںاور مذہب کے نام پر دھبا ہیں۔ ، حکومت کب تک اندھی اور بہری ہونے کا ڈرامہ کرتی رہے گی۔ ادھر تریپورہ ہائی کورٹ نے مسلمانوں پر پر تشدد کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ریاستی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کے ہیکروں کے ایک گروپ ’عصائے موسوی ‘نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سائبر حملہ کرکے اسرائیلی فوج کا ڈیٹا چوری کرلیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق اسرائیلی فوج میں اس سائبر حملے پر کھلبلی مچ گئی ۔ ایرانی ہیکروں کے گروہ نے فوجی سروسز کے اسکول کے سیکڑوں فوجیوں اور طلبہ کے بارے میں معلومات اور تفصیلات پر مشتمل فائلیں ، اسرائیلی وزیر دفاع بینی گین ٹس کی ذاتی تصاویر شائع کردیں۔ اس گروپ نے حال ہی میں ڈیٹا بیس کے لیکس کا ایک سلسلہ شائع کیا ہے ، جس میں نجی اسرائیلی کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کمپیوٹروں کا ڈیٹا موجود ہے۔ اسرائیلی جائزوں سے پتاچلتا ہے کہ یہ گروپ ایرانی ہے اور اس کا مقصد اسرائیلی کو تباہ کرنا ہے۔ اسرائیلی فوج کے افسران کے ڈیٹا کی چوری کو یہ دوسرا واقعہ ہے،جو اسرائیلی انٹیلی جنس کی واضح ناکامی کا ثبوت ہے۔ ڈارک نیٹ اور ٹیلی گرام پر فائلیں ہیک کرکے شائع کی گئی ہیں، جن میں الفون جنگی بٹالین، اس کے مقامات اور اس کی تربیت کے شیڈول کی تفصیلات موجود ہیں۔ ہیکروں نے جنگی یونٹوں میں شامل ہونے کے لیے نامزد فوجیوں کے نام اور سیکڑوں اہل کاروں کے نام اور پتے، ان کی رہایش گاہوں، ان کے سیل فون اور ای میل اکاؤنٹ کے علاوہ ذاتی تفصیلات بھی شائع کیں۔
مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کے ہیکروں کے ایک گروپ ’عصائے موسوی ‘نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سائبر حملہ کرکے اسرائیلی فوج کا ڈیٹا چوری کرلیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق اسرائیلی فوج میں اس سائبر حملے پر کھلبلی مچ گئی ۔ ایرانی ہیکروں کے گروہ نے فوجی سروسز کے اسکول کے سیکڑوں فوجیوں اور طلبہ کے بارے میں معلومات اور تفصیلات پر مشتمل فائلیں ، اسرائیلی وزیر دفاع بینی گین ٹس کی ذاتی تصاویر شائع کردیں۔ اس گروپ نے حال ہی میں ڈیٹا بیس کے لیکس کا ایک سلسلہ شائع کیا ہے ، جس میں نجی اسرائیلی کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کمپیوٹروں کا ڈیٹا موجود ہے۔ اسرائیلی جائزوں سے پتاچلتا ہے کہ یہ گروپ ایرانی ہے اور اس کا مقصد اسرائیلی کو تباہ کرنا ہے۔ اسرائیلی فوج کے افسران کے ڈیٹا کی چوری کو یہ دوسرا واقعہ ہے،جو اسرائیلی انٹیلی جنس کی واضح ناکامی کا ثبوت ہے۔ ڈارک نیٹ اور ٹیلی گرام پر فائلیں ہیک کرکے شائع کی گئی ہیں، جن میں الفون جنگی بٹالین، اس کے مقامات اور اس کی تربیت کے شیڈول کی تفصیلات موجود ہیں۔ ہیکروں نے جنگی یونٹوں میں شامل ہونے کے لیے نامزد فوجیوں کے نام اور سیکڑوں اہل کاروں کے نام اور پتے، ان کی رہایش گاہوں، ان کے سیل فون اور ای میل اکاؤنٹ کے علاوہ ذاتی تفصیلات بھی شائع کیں۔
مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کے ہیکروں کے ایک گروپ ’عصائے موسوی ‘نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سائبر حملہ کرکے اسرائیلی فوج کا ڈیٹا چوری کرلیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق اسرائیلی فوج میں اس سائبر حملے پر کھلبلی مچ گئی ۔ ایرانی ہیکروں کے گروہ نے فوجی سروسز کے اسکول کے سیکڑوں فوجیوں اور طلبہ کے بارے میں معلومات اور تفصیلات پر مشتمل فائلیں ، اسرائیلی وزیر دفاع بینی گین ٹس کی ذاتی تصاویر شائع کردیں۔ اس گروپ نے حال ہی میں ڈیٹا بیس کے لیکس کا ایک سلسلہ شائع کیا ہے ، جس میں نجی اسرائیلی کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کمپیوٹروں کا ڈیٹا موجود ہے۔ اسرائیلی جائزوں سے پتاچلتا ہے کہ یہ گروپ ایرانی ہے اور اس کا مقصد اسرائیلی کو تباہ کرنا ہے۔ اسرائیلی فوج کے افسران کے ڈیٹا کی چوری کو یہ دوسرا واقعہ ہے،جو اسرائیلی انٹیلی جنس کی واضح ناکامی کا ثبوت ہے۔ ڈارک نیٹ اور ٹیلی گرام پر فائلیں ہیک کرکے شائع کی گئی ہیں، جن میں الفون جنگی بٹالین، اس کے مقامات اور اس کی تربیت کے شیڈول کی تفصیلات موجود ہیں۔ ہیکروں نے جنگی یونٹوں میں شامل ہونے کے لیے نامزد فوجیوں کے نام اور سیکڑوں اہل کاروں کے نام اور پتے، ان کی رہایش گاہوں، ان کے سیل فون اور ای میل اکاؤنٹ کے علاوہ ذاتی تفصیلات بھی شائع کیں۔
