
خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان میں ملک گیر ہڑتال کے لیے ہزاروں افراد مختلف شہروں میں نکل آئے۔ خرطوم میں فوجی حکومت نے سیکورٹی انتہائی سخت کر دی ۔ اس دوران مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں،جن میں 2افراد ہلاک ہوگئے۔ سوڈان میں عوامی حکومت کو فارغ کرنے والی فوجی بغاوت کے خلاف ہفتے کے روز ملک گیر احتجاج کی کال پر سیکڑوں ریلیاں نکالی گئیں اور ہزاروں افراد خرطوم سمیت دوسرے چھوٹے بڑے شہروں میں جمع ہو گئے ۔ 25اکتوبر کو سابق وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کی حکومت ختم کرنے کے بعد ہونے والے مظاہروں میں ایک درجن ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق مظاہرین فوجی حکومت کے خاتمے کے نعرے لگارہے ہیں۔ پولیس اور فوج کی اضافی نفری اہم سڑکوں اور چوراہوں پر متعین کر دی گئی ہے۔ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جا چکی ہیں۔خرطوم کے جڑواں شہروں ام درمان اور خرطوم شمالی کو جوڑنے والے پلوں کو بھی رکاوٹوں سے بند کر دیا گیا ہے۔ یہ پل بڑے افریقی شہر خرطوم میں سے گزرنے والے دریائے نیل پر قائم ہیں۔ واضح رہے کہ فوجی حکومت کے بعد سوڈان کو غیر ملکی امداد کی معطلی کا بھی سامنا ہے اور اس باعث اس شمالی افریقی ملک کی پہلے سے پیدا معاشی مشکلات میں شدید اضافے کا یقینی امکان ہے۔
