میرپورخاص (نمائندہ جسارت) کھان تھانے کی حدود سے اغوا ہونے والی 9 سالہ بچی فوزیہ خاصخیلی کی عدم بازیابی کے خلاف بچی کے رشتے دار اور سول سوسا ئٹی کی جانب سے میرپورخاص پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ سو روز گزرنے کے باوجود بچی بازیاب نہیں ہو سکی ۔تفصیلات کے مطابق میرپورخاص کے تحصیل حسین بخش مری کی یونین کونسل کھان کے گاؤں محمد حسن مری کے رہائشی 65 سالہ مزدور نذر محمد خاصخیلی کی معصوم 9 سالہ بیٹی 100 روز سے زائد دن گزرنے کے باوجود بازیاب نہ ہو سکی۔ عمر رسیدہ مزدور نذر محمد خاصخیلی کو 100 دن گزرنے کے باوجود انصاف نہ ملنے کے خلاف میرپورخاص سول سوسائٹی کے رہنما واجد لغاری، شیر محمد سولنگی، جی رام ابوجھو، گلزار احمد مگسی ودیگر بھی احتجاج کرتے ہوئے روڈوں پر نکل آئے اور میرپورخاص پریس کلب کے سامنے مزدور سے یکجہتی کے لیے علامتی بھوک ہڑتال اور مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر سماجی رہنما واجد لغاری نے بتایا کہ انتہائی افسوس ناک عمل ہے جو غریبوں مزدوروں، ہاریوں کے حقوق کی بات کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک عمل یہ ہے کہ یہ ایک مزدور پیپلزپارٹی کا ووٹر بھی ہے جو گزشتہ 100 روز سے انصاف کے لیے احتجاج کر رہا ہے اور لیکن میرپورخاص کی انتظامیہ کے کان پر جوں بھی نہیں رینگ رہی۔ واجد لغاری نے کہا کہ اب یہ احتجاج میرپورخاص ضلع کے غریبوں، مسکینوں کا احتجاج بن گیا ہے اس لیے انصاف کے حصول تک یہ احتجاج جاری رہے گا ۔میرپورخاص کے سیاسی، سماجی رہنماؤں سمیت شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مظلوم کو انصاف دلانے کے لیے جاری کیے گئے احتجاج میں بھرپور شرکت کرکے مظلوم کو انصاف دلانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سمیت تمام اسٹک ہولڈرز کو اس معاملے پر نوٹس لینے اوربچی کو بازیاب کرا کے ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
