وزیرآباد سے ضمیر کاظمی
تحریک لبیک پاکستان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد وزیر آباد میں جی ٹی روڈ پر دیا گیا دھرنا
ختم کر دیا اور اب مظاہرین ملک کے درمیان رابطے کی سڑک سے ہٹ گئے ہیں.
اس طرح تقریبا ایک ہفتہ بعد قدیم شاہراہ پر ٹریفک بحال ہونا شروع ہو گیا ہے. جی ٹی روڈ بند ہونے سے
موٹر وے پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا تھا.
یہی نہیں بلکہ رابطہ سڑکیں بھی بند ہونے سے وزیر آباد اور دیگر شہروں میں خوراک اور پیٹرول کی
بھی قلت پیدا ہو گئی تھی.
مذہبی جماعت کے لانگ مارچ شرکاء کو جی ٹی روڈ کے ساتھ ملحقہ حامد ناصر چٹھہ۔ بینکرز پارک
میں جمع ہو گئے ہیں.
حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدہ میں مطالبات پورے ہونے تک مظاہرین وزیرآباد میں ہی رہیں گے
سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے رات گئے وزیرآباد میں موجود لانگ مارچ
کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کے ساتھ معاہدہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے لکھا
ہے. آپ سیاسی پارٹی کی حیثیت سے نظر آئیں گے دنیا میں توانا مذہب اسلام ہے پاکستان اور اسلام کے
لیے ہمیں ایک ہونا ہے جو مذاکرات کئے جبر کے ماحول میں نہیں کئے۔
کوئی ہمیں حب الوطنی نہ سیکھائے ہم سے بڑا حب الوطن کوئی نہیں۔ پولیس کے شہداء کی مغفرت کی
دعا کرتے ہیں. لبرل کو ماننا ہوگا کہ پاکستان کی بنیاد کلمہ لا الہ الا اللہ ہے. اس بار کیا گیا معاہدہ پہلے
معاہدے جیسا نہیں ہو گا جسے شام کو ماننے سے انکار کر دیا جاٸے.
اہل اقتدار سے کہا ہے کہ اگر کوٸی خیانت ہو گی تو اس سے بڑے قافلے کے ساتھ میدان مں آٸیں گے
سعد رضوی کی رہائی تک واپس نہیں جائیں گے یہاں وزیرآباد میں رہیں گے گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے
اب حکومت کو تنبیہہ کرتا ہوں کہ اگر کوئی گرفتاری کرنے کی کوشش کی یا وعدہ خلافی کی تو ذمہ دار
آپ ہونگے.
جب تک سعد رضوی رہا نہیں ہو جاتے اور مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہو جاتا تمام لانگ مارچ کے شرکاء
وزیرآباد میں رہیں گے اور جی ٹی روڈ خالی کر کے سامنے حامد ناصر چٹھہ پارک میں قیام کریں گے
مفتی منیب الرحمان کے ہمراہ شفیق امینی اور علامہ سید ظہیرالحسن شاہ بھی موجود تھے.
