حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد الطاف میمن نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارہ 11 اَرب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ 2021 کے مقابلے میں 30 فیصد بڑھ گیا ہے، جس کی بڑی وجہ کم برآمدات اور متوقع درآمدات کا 2020 سے بڑھ جانا ہے۔ اِس کی بنیادی وجہ درآمدات میں تیزی سے اضافہ اور برآمدات میں نسبتاً کمی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مشیر تجارت عبدالرزاق دائود کے مطابق 1.2 بلین امریکی ڈالرز کی گندم، چینی، 8 بلین کی مشینری کی درآمدات توقع سے زیادہ رہی، اِس کے علاوہ پیٹرولیم، سویابین، خام مال، کیمیکل، موبائل فون، کھاد، ٹائر، ادویات اور ویکسین کی بڑھتی ہوئی درآمدات سے درآمدی خسارہ بڑھ رہا ہے۔ صدر چیمبر نے کہا کہ برآمدات کی بحالی کے لیے حکومت کو پرتعیش اور غیر ضروری درآمدات پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے جس سے
تجارتی خسارے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ سینٹرل ایشیا اور یورپ ممالک سے نئی منڈیوں تک تجارتی رسائی ممکن بنا کر ہم اپنی برآمدات کو درآمدات تک لاسکتے ہیں جس کے لیے بیرون ملک سفارتخانوں کو فعال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی مصنوعات کو بیرون ملک تک رسائی حاصل ہو سکے۔ الطاف میمن نے کہا کہ نئی تجاری پالیسیوں میں تاخیر برآمدات میں نمایاں کمی واقع کر رہی ہے، اِسلیے نئی تجارتی پالیسیاں جاری کرنے کے لئے ٹائم فریم کا خاص خیال رکھا جائے تاکہ متعلقہ اہداف پورے ہوسکیں۔
