اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے لیے نئے بلدیاتی نظام کی سفارشات تیار کرلی گئی، اسلام آباد کا بلدیاتی نظام دو حصوں پر مشتمل ہوگا، مئیر اسلام آباد کا انتخاب براہ راست ہوگا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی اسد عمر نے اسلام آباد بلدیاتی نظام ایکٹ 2021 کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں شرکاء کو بلدیاتی نظام ایکٹ 2021 کی سفارشات کے مسودہ پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ بلدیاتی نظام ایکٹ 2021 کی سفارشات کا مسودہ دو حصوں پر مشتمل ہو گا، جس کا پہلا حصہ میٹرو پولیٹین اسلام آباد جبکہ دوسرا حصہ نیبرہڈ کونسل پر مشتمل ہوگا۔
میئر کے علاوہ مجموعی طور پر میٹرولیٹن کارپوریشن 70 ارکان پر مشتمل ہوگا، جن میں سے 45 جنرل سیٹیں، 10 خواتین ، 3 نوجوانوں کی ،3 اقلیتی برادری ،3 تاجر ، 3 مزدور/کسان ، 3 سینئر سٹیزنز کی سیٹوں پر مشتمل ہیں۔
ان 70 سیٹوں میں سے 25 خصوصی سیٹیں کا پینل منتخب میئر کا امیدوار جیتے گا جبکہ 45 جنرل سیٹیں ہرمئیر کے امیدوار کو ان کے پول کردہ ووٹوں کے تناسب سے تقسیم ہوگی۔
بلدیاتی نظام کے دوسرے حصے کے تحت پورا اسلام آباد مجموعی طور پر 100 نیبرہڈ کونسل پر مشتمل ہو گا، جس میں سے 5 مخصوص نشتیں اور چئیرپرسن کے علاوہ 4 کونسلر کے الیکشن پر براہ راست الیکشن ہوگا اور مخصوص نشستوں پر 2 خواتین ، 1 اقلیت ، 1 یوتھ اور1 سینئر سٹیزن کی نشت ہے جس کا انتخاب منتخب چیئرپرسن کرے گا۔
وفاقی وزیر نے اسلام آباد کے بلدیاتی نظام ایکٹ کی سفارشا پر مشتمل مسودہ پر کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایات دیں۔

