سری نگر —
ایک بھارتی نجی ہوائی کمپنی نے کہا ہے کہ پاکستان نےسری نگر اور شارجہ کے درمیان براہِ راست مسافر پروازوں کے لئے اس کی فضائی حدود کو استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ چنانچہ اب ان پروازوں کو سفر طے کرنے میں ڈیڑھ گھنٹے کا اضافی وقت لگے گا اور امکان یہ ہے کہ سفر کا کرایہ بھی بڑھے گا۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر اور شارجہ کے درمیان افتتاحی براہِ راست پرواز کا بھارت کے وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے علاقے کے اپنے حالیہ دورے کے دوران 23 اکتوبر کو افتتاح کیا تھا۔
انہوں نے اس موقع پر کہا تھا کہ سری نگر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان فضائی رابطہ جموں و کشمیر میں سیاحت کو فروغ دینے اور علاقے میں مزید بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے میں مدد دے گا۔
‘گو فرسٹ’ ایئرویز کے عہدیداروں نے بتایا کہ پاکستان کے انکار کے بعد یہ پرواز اب بھارتی شہروں ادھے پور اور احمد آباد سے ہوتی ہوئی،عُمان کی فضائی حدود سے گزرنے کے بعد ہی شارجہ پہنچے گی اور واپسی کے سفر کے لئے بھی یہی راستہ اختیار کیا جائے گا اور اس طرح پرواز کی تکمیل کے مجموعی وقت میں کم سے کم ڈیڑھ گھنٹے کا اضافہ ہو گا۔
"گو فرسٹ” نے بُدھ کو یہ اعلان کیا کہ وہ مجبوراً سری نگر اور شارجہ کے درمیان فلائٹ کے لئے لمبا راستہ اختیار کررہی ہے۔ کل منگل سے ‘گو فرسٹ’ نے اس فلائٹ کے لئے راستہ بدل دیا ہے کیونکہ پاکستان نے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے منع دیا ہے۔
عہدیداروں نے کہا کہ اسلام آباد میں حکام نے اس فلائٹ کے لئے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نئی صورتِ حال سے نئی دہلی میں امور خارجہ، داخلہ اور ہوا بازی کی وزارتوں کو مطلع کر دیا گیا ہے اور وہ اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہیں۔
تاہم پاکستان نے تاحال اس پر کوئی ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی سرکاری بیان جاری کیا ہے۔
اسلام آباد میں وائس آف امریکہ کے نمائندے نے اس سلسلے میں ترجمان سول ایوی ایشن اتھارٹی سیف اللہ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں پاکستان کا موقف اعلیٰ حکام کی طرف سے موصول ہونے کے بعد جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے اس ضمن میں کسی بھی سوال کا جواب دینے سے معذرت کر لی۔
گزشتہ ماہ کی 23 تاریخ کو افتتاحی پرواز کے بعد سری نگر اور شارجہ کے درمیان 24، 26 اور 28 اکتوبر کو بھی سری نگر اور شارجہ کے درمیان براہِ راست پروازیں پاکستانی فضائی حدود کے راستے چلائی گئی تھیں۔
دبئی۔ سری نگر فلائٹ بھی اسی مسئلے کا شکار ہوئی تھی
اس سے پہلے فروری 2009 میں سری نگر اور دبئی کے درمیان براہِ راست ہوائی پروازوں کا آغاز ہوا تھا، جس سے وادی کشمیر میں جاری شورش کے نتیجے میں متاثرہ سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد اور دوسرے اسٹیک ہولڈرز کو امید کی ایک نئی کرن نظر آئی تھی اور خلیجی ممالک میں کام کرنے والے کشمیریوں نے اس پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
14 فروری 2009 کو کانگریس پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی، جموں و کشمیر کے اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبد اللہ اور دوسری اہم بھارتی اور مقامی شخصیات نے سری نگر کے جدید ہوائی اڈے پر منعقدہ ایک بڑی تقریب میں افتتاحی فلائٹ کے ذریعے دبئی سے سری نگر پہنچنے والے مسافروں کا استقبال کیا تھا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا تھا، ” کشمیر میں امن لوٹ رہا ہے اور اب جب کہ سری نگر بین الاقوامی ہوا بازی کے نقشے میں جگہ حاصل کرچکا ہے، اس خطے کی معیشت کا ترقی کے منازل طے کرنا طے ہے”۔
ایئر انڈیا ایکسپریس نے اس روٹ کے لئے ایک نئے طیارے کو اپنی فلیٹ میں شامل کر لیا تھا۔ لیکن چند ہفتے بعد ہی سری نگر۔ دبئی ہوائی سروس روک دی گئی۔ شروع میں یہ خبریں آئی تھیں کہ کیونکہ یہ سروس ایئر انڈیا ایکسپریس کے لئے منافع بخش ثابت نہیں ہوئی ہے، اس لئے اسے براہِ راست کی بجائے امرتسر یا دہلی کے راستے چلایا جا رہا ہے لیکن بعد میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے یہ انکشاف کیا تھا کہ انہیں بھارت کے وزیر ہوا بازی نے مطلع کیا ہے کہ پاکستان نے سری نگر دبئی فلائٹ کے لئے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی ممانعت کر دی ہے۔
23 اکتوبر کو سری نگر۔ شارجہ فلائٹ کا افتتاح کیا گیا تو عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا "یہ اچھا لگ رہا ہے کہ فضائی حدود کو استعمال کرنے سے انکار اب ایک قصہء پارینہ ہے”۔
انہوں نے مزید کہا تھا، "آج سری نگر۔شارجہ فلائٹ کا جو اعلان ہوا ہے اس بارے میں کیا پاکستان کے دل میں تبدیلی آ گئی ہے اور اس نے سری نگر سے شروع ہونے والی پر وازوں کو اپنی ایئر اسپیس استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ اگر نہیں تو اس فلائٹ کا وہی حشر ہو گا جو (نئی دہلی میں برسر اقتدار) یو پی اے 2 (متحدہ ترقی پسند اتحاد) کے دوران سری نگر۔ دبئی فلائٹ کا ہوا تھا”۔
انہوں نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں کہا تھا "پاکستان کی طرف سے اس کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کے بعد سری نگر۔ دبئی فلائٹ کو دہلی میں تیکنیکی وقفے کے لئے رکنا پڑتا تھا اور پھر جنوب کی طرف جا کر پاکستان کی فضائی حدود کے نزدیک سے ہوتے ہوئے آگے پرواز کرنا پڑتی تھی۔ اس سے یہ فلائٹ خرچے اور وقت دونوں حساب سے مکمل طور پر ناقابل عمل بن کر رہ گئی”۔
عمر عبد اللہ کو رشتوں میں نرمی کی امید نظر آئی تھی
عمر عبداللہ نے جو بھارت کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور رہ چکے ہیں اور اس وقت نیشنل کانفرنس پارٹی کے نائب صدر ہیں، بدھ کو اس سلسلے میں ایک بار پھر سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر کا کا رخ کیا اور کہا ” بڑی بدقسمتی۔ پاکستان نے 2009-2010 میں سری نگر سے دبئی کے درمیان چلنے والی ایئر انڈیا ایکسپریس فلائٹ کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا تھا۔ مجھے یہ امید تھی کہ گو فرسٹ ایئرویز کو پاکستان کی فضا سے پرواز کرنے کی اجازت دی گئی ہے جو رشتوں میں پگھلاہٹ کی عکاسی کرتی ہے لیکن افسوس ایسا نہیں تھا”۔
تاہم بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی ایک اور سابق وزیرِ اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت کو اس بات پر آڑے ہاتھوں لیا کہ اُن کے بقول اس نے بظاہر پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر سری نگر اور شارجہ کے درمیان براہِ راست مسافر پروازں کا آغاز کیا۔ انہوں نے ٹویٹ میں کہا "یہ حیران کُن ہےکہ حکومتِ بھارت نے سری نگر سے بین الاقوامی پروازوں کے لئے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت حاصل کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔ کسی بنیادی کام کے بغیر صرف تشہیرات کے لئے نظر فریب نمائش”۔
