
اسلام آباد(آن لائن+صباح نیوز )وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر سے ہاتھ ملانے کا کامطلب ہوگامیں نے ان کی کرپشن تسلیم کرلی، اس پر اربوں روپے کرپشن کے مقدمات ہیں،اگر میں اس سے ہاتھ ملاتا ہوں تو میں معاشرے کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ کرپشن بری چیز نہیں ہے،سب لوگ کہتے ہیں آپ کیوں 2 بڑے خاندانوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ،میری ان سے ذاتی دشمنی نہیںبلکہ ماضی میں ان سے دوستی ہوا کرتی تھی، میں کرپشن کے خلاف لڑتا ہوں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان میں ’ایوان اعزاز‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ عمران خان کا کہنا تھاکہ برطانیہ میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اربوں روپے کی کرپشن کا الزام ہو اور اسمبلی میں دو دو گھنٹے تقریریں کریں، جو قوم اچھے اور برے کی تمیز ختم کرتی ہے وہ مرجاتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ موبائل فون کے چیلنج سے معاشرے میں بہت بڑی تبدیلی آرہی ہے، بچوں کے ساتھ زیادتیاں بڑھیں، عورتوں سے زیادتیوں کے کیسز ہیں لیکن ان پر
اب بات نہیں ہوتی،موبائل فون بند نہیں کرسکتے لیکن بچوں کو رول ماڈل دے سکتے ہیں، ہمیں معاشرے کے لیے فکری انقلاب چاہیے، ہمیں اخلاقیات چاہییں، پاکستان میں سب سے زیادہ جنسی جرائم بڑھ رہے ہیں، یہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے،3سال پہلے زینب کیس ہوا تھا تو پورا ملک کھڑا ہو گیا تھا لیکن آج کل کہیں بچوں سے زیادتی تو کہیں عورتوں سے ریپ ہو رہا ہے لیکن کوئی ردعمل نہیں ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بہت زیادہ بڑی تعداد میں رونما ہورہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فلمیں 40سال میں بہت بدلی ہیں اور اس کے اثرات ان کے خاندانی نظام پر مرتب ہو رہے ہیں، دلی کو ریپ کیپیٹل کہا جاتا ہے اور اگر ہم وہی ثقافت اپنائیں گے تو اس کے اثرات مرتب ہوں گے لہٰذا یہ دانشور کا کام ہے وہ معاشرے کی رہنمائی کریں اور متبادل طرز زندگی کے بارے میں بتائیں۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت دانشوروں اور مصنفوں کی مکمل حمایت اور مدد کرے گی اور میں آپ سے امید کرتا ہوں کہ آپ ہمارے معاشرے خصوصاً نوجوانوں کی رہنما کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ اسکالرز کا کام تجزیہ کرنا ہوتا ہے، قوم کی رہنمائی کریں، مدینہ کی ریاست میں تعلیم پر زور دیا گیا، یہودیوں کا دنیا پر تعلیم کی وجہ سے غلبہ ہے، جو انسان حضوراکرم ﷺ کی سنت پر چلے گا اوپر جائے گا۔عمران خان کے بقول مسلمانوں کا سنہری دور شروع ہوا تو البیرونی اور ابن بطوطہ جیسے دانشوروں کا بڑا مقام تھا اور وہ دنیا میں جہاں بھی جاتے تھے ان کی بہت قدرومنزلت کی جاتی تھی،جب کوئی تہذیب ترقی کرتی ہے تو اس کے رول ماڈل دانشور بن جاتے ہیں کیونکہ وہ قوم کی رہنمائی کرتے ہوئے ان کا قبلہ درست کرتے ہیں اور جب اسکالرز غلط راستے پر چلے جاتے ہیں تو تہذیبیں زوال پذیر ہو جاتی ہیں لہٰذا اگر دانشور درست رہنمائی کریں تو تہذیبیں زوال پذیر نہ ہوں لیکن اسکالرز بھی غلط راستے پر چلے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دانشور قوم کے نظریے کا تحفظ کرتے ہیں، علامہ اقبال کے ساری دنیا میں مسلمانوں پر جو اثرات مرتب ہوئے وہ بے مثال تھے اور آج کے پاکستان میں دانشوروں اور اسکالرزکی بہت ضرورت ہے۔وزیراعظم کے مطابق ہمارے ہاں لوگوں کو اسلام کی تاریخ کا ہی نہیں پتا، لوگوں کو جنگیں یاد ہیں لیکن لوگوں کو پتا ہی نہیں ہے کہ دنیا کی تاریخ میں اتنا بڑا انقلاب جنگوں کی وجہ سے نہیں آیا، اس انقلاب کی کوئی مثال نہیں ملتی،نبی اکرمؐ کے دور میں 622 سے 632 ہجری تک 10سال کے دوران صرف 1400 لوگ جنگوں میں مرے تھے جس میں 600 مسلمان شہید ہوئے تھے اور ڈیڑھ سو مربع میل پر پھیل چکے تھے تو وہ تلوار سے نہیں آیا تھا بلکہ دراصل وہ فکری انقلاب تھا، لوگوں کے کردار بدل گئے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو اسلام کے اس فکری انقلاب کے بارے میں بتانا اب انتہائی ضروری ہے کیونکہ ان پر اب میڈیا اور سوشل میڈیا کی یلغار ہے، انسانی تاریخ میں بچوں اور نوجوان کے ساتھ کبھی ایسا نہ تھا ۔ان کا کہنا تھاکہ اگر ہمیں نوجوانوں کو درست راہ پر رکھنا ہے تو اب دانشوروں کے ساتھ ساتھ فلم اور ٹی وی پروڈیوسرز کی بھی بہت زیادہ ذمے داری بنتی ہے، ہم میڈیا کو بند نہیں کرسکتے کیونکہ سوشل میڈیا حقیقت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کبھی کبھار مجھے شکایت آتی ہے کہ یوٹیوب یا ٹک ٹاک پر کوئی وڈیو نکل آئی ہے، ہم پی ٹی اے کو کہہ کر وہ بلاک کراتے ہیں تو اگلے دن کوئی اور مواد نکل آتا ہے، ہم اسے روک نہیں کر سکتے لیکن اپنے بچوں کی تربیت کر سکتے ہیں اس طرح کے مواد سے انہیں کیسے نمٹنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے لیے سب سے بڑا بحران یہ ہے کہ ہماری اخلاقیات بہت بری طرح نیچے گری ہے، نبی اکرمؐ کے انقلاب کی بنیاد ہی اخلاقیات تھی کہ اچھا کو سراہا جائے اور برائی کی مذمت کی جائے۔عمران خان نے یہ بھی کہاکہ رحمت اللعالمین اتھارٹی بنانے مقصد یہ ہے کہ ہم بچوں کو رول ماڈل دے سکتے ہیں اور بچوں کا رول ماڈل وہ ہے جو دنیا کی تاریخ کے سب سے عظیم لیڈر ہیں، ہمیں بچوں کو بتانا چاہیے کہ دنیا کے عظیم ترین لیڈر میں ایسی کونسی خوبیاں تھیں کہ انہوں 2سپراوورز کے سامنے کھڑا کر کے دنیا کی امامت کرا دی۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ اگر ہمیں اپنے معاشرے کا اخلاق بہتر بنانا ہے تو نبی اکرمؐ کی سیرت پر پروگرام کرکے بچوں کو متبادل پیغام دینا ہوگا۔
