لاہور (رپورٹ: حامد ریاض ڈوگر) امریکا دنیا میں کوئی ایسی ماڈل حکومت نہیں چاہتا جس میں اسلامی خلافت کا شائبہ بھی ہو ‘مستحکم طالبان حکومت کے قیام سے مغرب میں بڑے پیمانے پر جاری قبول اسلام کی لہر کو تقویت ملے گی جو استعماری قوتوں کے مفادات کے خلاف ہے‘ افغان عوام کی کامیابی پاکستانی قوم کی امداد اور تعاون کی مرہون منت ہے۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر آصف لقمان قاضی، جرأت گروپ آف نیوز پیپرز کے مدیر اعلیٰ اور انجمن مدیران جرائد کے سابق صدر جمیل اطہر قاضی اور مجلس احرار اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل و متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کے کنوینر عبداللطیف خالد چیمہ نے روزنامہ ’’جسارت‘‘ کے اس سوال کے جواب میںکیا کہ’’امریکا پاکستان پر افغانستان کی طالبان حکومت تسلیم نہ کرنے کے لیے دبائو کیوں ڈال رہا ہے؟‘‘ آصف لقمان قاضی نے کہا کہ امریکا نے افغانستان سے انخلا اپنی خواہش اور خوشی سے نہیں کیا بلکہ افغان طالبان کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد مجبوراً کیاہے‘ وہ کسی بھی صورت طالبان کو افغانستان میں حکمران کے طور پر نہیںدیکھنا چاہتا‘ اس کی خواہش اور کوشش ہے کہ ایسے دوسرے لوگ افغانستان میں برسراقتدار آئیں جو اس کے آلہ کار بن کر رہیں‘ پاکستان کو اس مسئلے پر اپنے دوست پڑوسی ممالک سے بات کرنی چاہیے اور ان سب سے مشورہ اور ان کو قائل کر کے مشترکہ فیصلہ کرنا چاہیے‘ بہتر ہو گا کہ ترکی، ایران، روس، چین اور قطر سب مل کر طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں۔ جمیل اطہر قاضی نے کہا کہ امریکا اپنی20 برس کی ناکامیاں پاکستان کے گلے ڈالنا چاہتا ہے حالانکہ طالبان کے معاملے میں جو کچھ پاکستان کے بس میں تھا‘ وہ امریکا کے لیے کیا ہے‘ اب پاکستان کو امریکی دبائو کو مسترد کر دینا چاہیے اور ایک آزاد و خود مختار ملک کی حیثیت سے اپنے قومی و ملی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے سب سے پہلے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دینا چاہیے‘ افغانستان ہمارا قریب ترین ہمسایہ ہے جہاں کے عوام کی جدوجہد آزادی کی کامیابی پاکستانی قوم کی امداد تعاون کا مرہون منت ہے‘ پاکستان کو طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے یہ تاخیر پاکستانی قوم اور عوام کے مفاد کے منافی ہو گی۔ عبداللطیف خالد چیمہ نیکہا کہ دراصل امریکا افغانستان میں مجاہدین کے ہاتھوں اپنی شکست کے زخم چاٹ رہا ہے اور ایک خوف میں مبتلا ہے کہ کہیں افغانستان میں کوئی ایسی مضبوط اور مستحکم حکومت قائم نہ ہو جائے جس میں اسلامی خلافت کا شائبہ بھی ہو اور جو دنیا میں ایک ماڈل مسلم ریاست کی حیثیت اختیار کر سکے جس کے نتیجے میں مغرب میں بڑے پیمانے پر جاری قبول اسلام کی لہر کو تقویت ملے گی اور حکومتی سطح پر بھی اسلامائزیشن کا مطالبہ زور پکڑے گا اس لیے وہ پاکستان سمیت تمام ممالک پر دبائو ڈال رہا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم نہ کیا جائے ‘ پاکستان اور اکثر دیگر ممالک چونکہ اس وقت امریکی سامراج کے شکنجے میں ہیں اس لیے سردست پاکستانی حکومت کا ارادہ نظر نہیں آتا کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا جائے حالانکہ ہمارا قومی و ملکی مفاد اس میں ہے کہ ہم سب سے پہلے طالبان حکومت کو تسلیم کریں‘ ہم افغان عوام کی نمائندہ طالبان حکومت کو مضبوط و مستحکم کریں جو21 برس کی جدوجہد کے بعد وجود میں آئی ہے۔

