بیجنگ: چین اور پاکستان کے مابین پاکستان میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہو گئے، یہ سنٹر ووہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (WUT) اور پاکستان کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز مشترکہ طور پر تعمیر کریں گی۔
گوادر پرو کے مطابق دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر معین الحق نے کہا کہ چین میں 40000 سے زائد پاکستانی طلبا ہیں، جن میں ووہان میں 1000 شامل ہیں۔ انہوں نے کہا دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون نہ صرف پاکستانی طلبا کو ان کے کیرئیر اور پڑھائی میں مدد دے گا بلکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی اعلی معیار کی ترقی کے حصول میں بھی مدد کرے گا۔
سفیر معین الحق نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہاس مفاہمت نامے سے چین اور پاکستان کے درمیان تعلیمی تعاون کا ایک نیا نقطہ آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکز ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط کرے گا اور سائنس و ٹیکنالوجی کے اعلی معیار کی ترقی، ہنر کی آبیاری اور اعلی تحقیق کے لیے نئی راہیں بھی کھولے گا۔
گوادر پرو کے مطابق ووہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی پارٹی کمیٹی کے سیکرٹری سی جن سن نے سفیر معین الحق اور ان کے وفد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ تعلیمی تعاون سی پیک کی ٹھوس بنیاد ہے۔ چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر، ہم پاکستانی یونیورسٹیوں کے ساتھ اپنے تعاون کو بھرپور طریقے سے فروغ دینے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے ۔
سن نے کہا ووہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی پاکستانی طلباء کی آبیاری کو بہت اہمیت دیتی ہے اور بیلٹ اینڈ روڈ سے منسلک ممالک اور خطوں کے بین الاقوامی طلبا کو مشترکہ طور پر پروان چڑھانے کے لیے متعدد چینی سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ پچھلے پانچ سالوں میں ووہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نے کل 173 پاکستانی طلبا کوایڈمیشن دیا ہے جو بنیادی طور پر انجینئرنگ ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
سن نے مزید کہا ووہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی سلیکیٹ بلڈنگ مٹیریلکی سٹیٹ کی لیبارٹری نے ایک بین حکومتی تعاون کے منصوبے کو انجام دیا ہے، جس سے پاکستان کو ان علاقوں میں اپنی عمارتوں کی بحالی میں مدد ملے گی جو آفات سے متاثر ہوئے ہیں۔
پراجیکٹ لیڈر کے طور پر وزیر اعظم ٹاسک فورس برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر عطا الرحمان نے آن لائن ووہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کا پاکستان کے لیے بھرپور تعاون پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا یہ مرکز ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کرے گا اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی کامیابیوں کو حقیقی پیداوار میں بدل دے گا اور دونوںممالک کی سماجی اور اقتصادی ترقی کو فائدہ پہنچائے گا۔

