افریقی ملک سوڈان میں جمہوریت نواز مظاہرین نے فوجی بغاوت کی مخالفت کا سلسلہ بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔
ان افراد نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات دارالحکومت خرطوم کی سڑکوں اور گلیوں میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔
فوج کی بغاوت کے خلاف عوامی مظاہروں کو کت مداخلت سے ختم کرنے کی کوششوں میں اب تک چودہ مظاہرین ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
جمہوریت نوازوں کی بڑی تنظیم سوڈانی پروفیشنل ایسوسی ایشن نے ملک میں عام سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ یہی تنظیم سن 2018 اور سن 2019 میں سابق آمر عمر البشیر کے طویل اقتدار کے خاتمے میں پیش پیش تھی۔
