تحریک لبیک پاکستان سے کالعدم کا لفظ ختم کرنے اور کائرکنوں کی رہائی کے بعد دیگر جماعتوں کی جانب سے بھی مطالبات سامنے آگئے ہیں۔
اہلسنت و الجماعت نے اپنی تنظیم کالعدم سپاہ صحابہ سے بھی پابندی ہٹانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ پابندی نہ ہٹنے کے صورت میں احتجاج کرنے کی دھمکی بھی دے دی ہے۔
تحریک لبیک پاکستان پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد پنجاب حکومت نے ایک اور بڑا فیصلہ کرلیا۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے انصار الاسلام پر پابندی کا ریفرنس بغیر کارروائی کے کابینہ سے واپس منگوالیا۔
محکمہ داخلہ نے انصار الاسلام پر پابندی کا ریفرنس کابینہ میں بھیجا تھا۔ محکمہ داخلہ نے کئی ماہ تک اس کی مزید کوئی پیروی نہیں کی
انصار الاسلام مولانا فضل الرحمان کی تنظیم ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے ریفرنس بغیر کسی کارروائی کے واپس لیا ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم نے قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس نے اپنے دفاتر کھولنے کا مطالبہ کردیاہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کارکنوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کردیا
جب ٹی ایل پی بحال ہوسکتی ہے تو ایم کیو ایم کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا ہم دفتر کھولنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن اجازت نہیں دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے ان دیگر کالعدم جماعتیں بھی احتجاج کا راستہ اختیار کرسکتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر پشتون تحفظ موومنٹ سے بھی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ چکا ہے۔
حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں، دھرنا اور سات پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد کالعدم کا لفظ ختم کیا اور تمام گرفتار کارکن رہا کر دیے ہیں۔
