(رپورٹ: سید وزیر علی قادری) بجلی بلوں میں بلدیاتی ٹیکس وصولی گلے پر چھری اور کنپٹی پر بندوق رکھنے کے مترادف ہے‘ بلدیاتی ادارے بدعنوانی کی وجہ سے ٹیکس جمع کرنیکی صلاحیت نہیں رکھتے ‘ کے الیکٹرک اور بینک کوسروس چارجزملیں گے‘صوبائی حکومت اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں کرناچاہتی‘ سابق ناظم نعمت اللہ خان کے دور میںبجٹ7ارب سے بڑھ کر44ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔ان خیالات کا اظہارسابق چیئرمین یوسی، ضلع شرقی جنید مکاتی، کشمیر روڑ پر واقع المدنی جامع مسجد کے امام اور ایجوکیشنسٹ قاری باسط ابدالی،نامور صحافی اور نقاد نور خان یوسف زئی،نامور صنعتکار عارف اور نامور کاروباری شخصیت مصطفی پیار علی نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ’’حکومت سندھ بجلی کے بل کے زریعے اہل کراچی پر بلدیاتی ٹیکس کیوں مسلط کرنا چاہتی ہے؟‘‘ جنید مکاتی کا کہنا تھا کہ اصل میں حکومت سندھ کو معلوم ہے کہ ان کا بلدیاتی نظام بالکل تباہ اور تھرڈ کلاس ہے‘ حکومت نے ایک ایسا نظام بنایا ہے کہ اختیارات نچلی سطح کے بجائے صوبائی وزرا کے پاس ہیں‘ ان کو اندازہ ہے کہ کوئی بھی ٹیکس لگائیں گے تو عوام ان کو ٹیکس نہیں دے گی‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے عوام کو کچھ دیا ہی نہیں‘ ان کے سسٹم میں کرپشن عام ہے‘ ان کی خواہش ہے کہ بلدیاتی ٹیکس لگائیں اور اس کی وصولی وہ بجلی کے بل کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں‘ اب عوام بجلی کے بل تو ادا کرنے کے لیے مجبور ہیںکیونکہ اگر بجلی کا بل ادا نہیں کریں گے تو بجلی کٹ جائے گی‘ اس لیے یہ چاہتے ہیں کہ کے الیکٹرک سے سیٹنگ ہوجائے جبکہ کے الیکٹرک جتنا ظلم کراچی والوں کے ساتھ کر رہی ہے اس میں یہ ادارہ تنہا نہیں بلکہ سندھ اور وفاقی حکومت اس میں برابر کی شریک ہے‘ سارا بجٹ کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے تو عوام حکومت کو کیونکر ٹیکس دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان صاحب اس شہرکے محسن تھے‘ ان کے دور میں7 ارب روپے کا بجٹ ٹیکس کی وصولی کے ذریعے 44 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا‘ اگر حکومت کام کرے گی تو لوگ ٹیکس دینا شروع کردیں گے‘ ان کو چاہیے کہ جو پہلے سے ہی لگائے ہوئے ٹیکس ہیں‘ جیسے ٹریڈ لائسنس کے ٹیکس، اسپتالوں پر ٹیکس، ڈاکٹرز کی آمدنی پر ٹیکس اور چارجڈ پارکنگ کی مد میں آمدنی پر ٹیکس سے حاصل ہونے والے ریوینو کو عوام پر صحیح طرح سے خرچ کریں‘ اس دوران بدعنوانی کو روکا جائے‘ یہ ہی نہیں چونگیاں اور دیگر آمدنی والے محکموں کی جانب سے ٹینڈر کیذریعے ٹھیکے دیے ہوئے ہیں جیسے چڑیا گھر کو ٹھیکے پر دیا ہوا ہے۔ مختلف پارکس ٹھیکے پر دیے ہوئے ہیں‘ ان کے پاس اپنی جائدادیں بھی ہیں جس کی آمدنی کرایہ کی مد میں بے حساب ہوتی ہے‘ کرایہ آتا ہے اس کا کیا کرتے ہیں‘ انہیں اس کے سسٹم کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے‘ اپنی عیاشی اور بدعنوانی ختم کریں تو غریب اور پسے ہوئے عوام سے مختلف طریقوں سے مزید ٹیکس وصول کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ قاری باسط ابدالی کا کہنا تھا کہ میں تو یہ ہی کہوں گا کہ بجلی کے بل کے ذریعے بلدیاتی ٹیکس وصولی ظلم پر ظلم ہوگا۔ نور خان یوسف زئی نے کہا کہ حکومت سندھ کے محکمے اس قابل ہی نہیں ہیں کہ وہ بلدیاتی ٹیکس وصول کرسکیں‘ ان اداروں میں اس قدر بدعنوانی ہے کہ وہ صرف روپیہ ہضم کرنا جانتے ہیں‘ بجلی کے بل میں ٹیکس وصولی ایک اور بڑا بحران کھڑا کردے گی‘ ایک مکان میں ایک سے زیادہ بجلی کے میٹر لگے ہوتے ہیں لہٰذا ہیرا پھیری کا نیا دھندہ شروع ہوجائے گا‘ بجلی کے بلوں میں بلدیاتی ٹیکس لینے کے نام پر کے ایم سی اور کے الیکٹرک ایک مرتبہ پھر شہریوں کے ساتھ ظلم کرنے جا رہے ہیں‘ یہی نہیں ایک ادارے کو دوسرے ادارے کے بل وصول کرنے کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے‘ دونوں ادارے لوٹ مار کرتے ہیں‘ پہلے الگ الگ کرتے تھے اب متحد ہوکر شہریوں کو خودکشی پر مجبور کرنے کا ٹھیکا لینے کے لیے کمر کس رہے ہیں جس میں وفاق،سندھ حکومت اور خود کے الیکٹرک شامل ہے۔نامور صنعتکار عارف کا کہنا تھا کہ بجلی کے بل میں بلدیاتی ٹیکس لینے کی بات یا شوشہ اسی طرح ہے کہ گلے پر چھری اور کنپٹی پر بندوق کی نالی رکھ کر رقم وصول کی جائے‘ اس سے کے الیکٹرک کو بھی فائدہ ہے۔ بینک بھی اس پر سروس چارجز لیں گیجب کروڑوں کی ٹرانزیکشن ہوگی تو کیش فلو بھی اچھا ہوگا اور دیگر مفادات بھی مالیاتی ادارہ اٹھائے گا ‘ دوسرے کے الیکٹرک نجی ادارہ ہے اس کا آڈٹ بھی نہیں ہوگا‘ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بلدیہ کی نااہلی اور رشوت بازاری کی وجہ سے انہیں آمدنی نہیں ہوتی‘ اگر ہوتی بھی ہے تو کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں۔ ان کے ٹیکس کا کمپیوٹرائزڈ نظام ہی نہیں ہے بلکہ یہ اسٹاف صبح کے بجائے 11، 12بجے دوپہر کو آتا ہے اور رات8 بجے تک آفس میں رہتا ہے‘ اس کا کیا کام رات 8 بجے تک‘ دراصل دن میں دھندا اور رات کو حساب کتاب ہوتا ہے۔ نامور کاروباری شخصیت مصطفی پیار علی کا کہنا تھا کہ اس کی سادہ سی وجہ تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ بلدیاتی حکومت جن کے ہاتھوں میں رہی ہے اور جو اس سے جڑے شعبے ہیں وہ انہی کے ہاتھوں میں ہیں کہ جنہوں نے چائنا کٹنگ کی ہے‘ بہت سی جگہوں پر تو بل آتے ہی نہیں ہیں‘سندھ حکومت کی یہ تجویز بظاہر تو بہتر ہے‘ امید ہے اس سے ریکوری بڑھے گی اور کچھ ترقیاتی کام ہوسکیں گے جو بجٹ نہ ہونے کا رونا رو کر نہیں ہو پاتے۔

