English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حافظ نعیم کی الیکشن کمیشن کی سماعت میں شرکت ،سندھ میں فوری بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ

اسلام آباد:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن الیکشن کمیشن کے باہرمیڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

اسلام آباد (نمائندہ جسارت+اسٹاف رپورٹر) امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بدھ کے روز سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سماعت میں شرکت کی اور کراچی سمیت سندھ بھر میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جماعت اسلامی کا مؤقف پیش کیا اور سندھ حکومت کے مسلسل مجرمانہ ،غیر جمہوری وتاخیری حربوں سے آگاہ کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کے آئینی تقاضے اور ضرورت پر اظہار خیال کیا۔اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے شہری و بلدیاتی امور کے نگران و پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے صدر سیف الدین ایڈووکیٹ بھی موجود تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے الیکشن کمیشن کو ایک خط کے ذریعے کمیشن کی سماعت میں بطور فریق شریک ہونے اور جماعت اسلامی کا مؤقف پیش کرنے کی درخواست کی تھی،جسے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے منظور کرتے ہوئے سماعت میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ سماعت میں شرکت کے بعد امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کا اعلان کرانے کی ڈیڈ لائن مقرر کی جائے اور نئی حلقہ بندیاں کی جائیں،آبادی کے تناسب سے کراچی میں یونین کمیٹیوں کی تعداد بڑھائی جائے ،15دن کے اندربااختیارشہری حکومت کا ایکٹ پاس کیا جائے ،میڈیا سے گفتگو کے موقع پر جماعت اسلامی اسلام آباد نشرو اشاعت کے نگران شاہد شمسی بھی موجود تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کی سماعت میں صوبائی حکومت کے نمائندے اور وزیر بلدیات کو آنا چاہیے تھا،تاہم اُن کی عدم شرکت سے صاف نظر آرہا ہے کہ سندھ حکومت انتخابات کے انعقاد سے فرارہو رہی ہے جو کہ انتہائی شرمناک اور غیر جمہوری و غیر آئینی رویہ ہے،انہوں نے کہا کہ میگا سٹی ہونے کے باوجود کراچی میں یونین کمیٹیوں کی تعداد صرف 209ہے جبکہ اندرون سندھ یونین کمیٹیاں تقریباً1300ہیں،کراچی کی طرح اندرون سندھ کے دیگر شہروں میں بھی شہری حکومت کا نظام قائم ہونا چاہیے ،کراچی دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے اس میں میگا سٹی گورنمنٹ کا نظام قائم کیا جائے ، اگر پیپلزپارٹی نے کراچی میں قبضے کی سیاست جاری رکھی تو جماعت اسلامی اس کے خلاف ہر ممکن اقدامات اور ہر قسم کا آئینی و جمہوری طریقہ اختیار کرے گی ،اب کراچی سمیت سندھ میں بھی وڈیرہ شاہی نظام نہیں چلنے دیا جائے گا ،جماعت اسلامی وڈیرہ شاہی نظام کے خلاف سڑکوں پر بھی احتجاج کرے گی اور ضرورت پڑنے پر اسمبلی کا بھی گھیراؤ کرے گی،بلدیاتی انتخابات کے خلاف سندھ حکومت کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ، کراچی سمیت پورے صوبے کے عوام کے حقوق کا تحفظ کریں گے ۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ آئین و قانون کے مطابق اگست 2019ء میں بلدیاتی انتخابات ہوجانے چاہیے تھے، بلدیاتی حکومت بنیادی طور پر جمہوریت کی نرسری ہے ، ملک میں تعمیر و ترقی کے کام لوکل باڈیز کے بغیر ممکن نہیں ہوتے ،بد قسمتی سے سیاسی جماعتیں اور سیاسی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کرانے سے انحراف کرتی ہیں ،سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات نہ کراکر اقتدار اپنے ہاتھوں میں رکھناچاہتی ہیں جو کہ آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے ،جماعت اسلامی کراچی کے3 کروڑ سے زاید عوام کے حقوق اورشہر قائد کے مسائل کے حل کے لیے تحریک چلارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں سندھ حکومت نے کراچی کے تمام اداروں پر قبضہ کیا ہوا ہے حتیٰ کہ کچرا اٹھانے کا کام بھی صوبائی حکومت نے اپنے ذمے لے لیاہے ،سندھ حکومت نے واٹر بورڈ کو اپنے ماتحت کرلیا اور اسی طرح سے کے بی سی اے کوتبدیل کر کے ایس بی سی اے کردیاہے ،بلدیہ کے تحت چلنے والے تعلیم اور صحت کے اداروں پر بھی سندھ حکومت قبضہ کرنا چاہتی ہے ،جمہوریت کی رٹ لگانے والی پیپلزپارٹی نے بلدیاتی انتخابات کرانے کے بجائے سیاسی ایڈمنسٹریٹرمتعین کردیا، سیاسی ایڈمنسٹریٹر کی آڑ میں بیوروکریسی ،وڈیرے اور جاگیردار اپنا کھیل کھیل رہے ہیں ،لسانیت و عصبیت کو پروان چڑھارہے ہیں ، جعلی ڈومیسائل کے ذریعے من پسند لوگوں کی بھرتیاں کی جارہی ہیں ، بلدیاتی اداروں میں بھی تعصب ولسانیت کی بنیاد پر بھرتیاں کی جارہی ہیں ،اس وقت کراچی میں حلقہ بندیوں میں بھی شدید ناانصافی کی گئی ہے ۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے